انوارالعلوم (جلد 16) — Page 505
نظام تو انوار العلوم جلد ۱۶ اور امریکہ میں جاری ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ مزدور پیشہ لوگوں کو حکومت میں زیادہ تصرف دلایا جائے ، غرباء کو زیادہ حقوق دلائے جائیں اور ملک کی تجارت کو اتنا بڑھایا جائے کہ غرباء کی غربت دُور ہو جائے۔ان ممالک میں چونکہ یہ تحریک ایک عرصہ سے جاری ہے اس لئے اس کا ان ممالک کے غرباء کو اس حد تک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ ہمارے ملک کا امیر اور انگلستان کا غریب دونوں برا بر ہوتے ہیں۔یہاں کسی کی تنخواہ تین سو روپے ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو رئیس سمجھنے لگتا ہے۔ہمارے ملک میں بڑا عہدہ ڈپٹی کا ہے یا حج کا ہے اور سب حج اور ڈپٹی کو اڑھائی سو روپے تنخواہ ملا کرتی ہے مگر یہ انگلستان میں ایک مزدور کی تنخواہ ہے۔امریکہ میں تو اس سے بھی زیادہ تنخواہیں ہیں وہاں بعض جگہ معمولی مزدور کی ماہوار تنخواہ ڈیڑھ ڈیڑھ سو دو دو سو ڈالر ہوتی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ پانچ سو یا سات سو روپیہ ماہوار مگر وہ کہلا تا مزدور ہے۔غرض انہوں نے ایک تو معیارِ زندگی کو بڑھا لیا ہے دوسرے انہوں نے یہ اصول مقرر کیا ہوا ہے کہ ملک کی تجارت اور اقتصادی حالت کو زیادہ سے زیادہ ترقی دی جائے اِس طرح ملک کی دولت بڑھے گی اور جب ملک کی دولت بڑھے گی تو غرباء کو بھی ترقی حاصل ہوگی۔یہ انگلستان، فرانس اور امریکہ کی تحریک سوشلزم کے نتائج ہیں لیکن اس تحریک کی ہمدردی زیادہ تر اپنے ملک کے غرباء کے ساتھ ہے۔وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک کی بھی کچھ اشک شوئی کریں مگر یہ نہیں چاہتے کہ دوسرے ممالک میں جو اُن کی اقوام کو نفوذ اور اقتدار حاصل ہے وہ مٹ جائے۔ہندوستان کا سوال آجائے تو وہ ضرور اشک شوئی کرنے کی کوشش کریں گے مگر جب بھی وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو کچھ دے دیا جائے اُس وقت وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کے اقتدار میں کوئی فرق آئے۔گویا ان کا ہندوستانیوں سے ایسا ہی سلوک ہوتا ہے جیسے ایک پالتو جانور کو اچھی غذا دی جاتی ہے۔پالتو جانور کو اچھی غذا دینے والا اچھی غذا تو دیتا ہے مگر اپنی غذا کو نقصان نہیں پہنچنے دیتا اسی طرح یہ لوگ ہندوستان کو جب بھی کوئی حق دینا چاہتے ہیں ساتھ ہی یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی امپیریلزم کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔آج ہمارا مزدور چارسو روپیہ ماہوار لیتا ہے اگر گل وہ دو سو روپیہ تک پہنچ گیا تو ہماری حالت بھی وہی ہو جائے گی جو ہندوستان اور افغانستان کے غرباء کی ہے۔اس تحریک کے دو عظیم الشان نقصانات ہیں۔