انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 506

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو سوشلزم تحریک کے دو عظیم الشان نقصانات یعنی غیر ملکوں اول اس تحریک کو ساری دنیا سے ہمدردی نہیں سے ہمدردی کا فقدان اور مذہب سے بے توجہی بلکہ اپنے اپنے ملک سے ہمدردی ہے۔گویا یہ تحریک مخفی امپیریلزم کی شریک حال ہے اور انٹر نیشنلزم کا ساتھ صرف اس لئے دیتی ہے کہ دوسری اقوام آگے نہ بڑھیں۔دوسرا نقص اس تحریک میں یہ ہے کہ اس میں صرف دنیوی پہلو کو مدّ نظر رکھا گیا ہے مذہبی پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔گویا اگر پہلے نقص کو یہ تحریک ڈور بھی کر دے اور اس نظام کے اصول میں ساری دنیا سے ہمدردی کرنا شامل کر لیا جائے تب بھی مذہب کا خانہ خالی ہے حالانکہ جسمانی ضرورتوں سے مذہبی اور دینی ضرورتیں زیادہ اہم ہوا کرتی ہیں۔یہ لوگ مذہب کے دشمن نہیں مگر انہیں مذہب سے ہمدردی بھی نہیں اور جب ہمدردی نہیں تو انہوں نے مذہب کے لئے خرچ کیا کرنا ہے؟ دوسری تحریک اس مرض کا علاج کرنے کے لئے وہ جاری کی گئی ہے جو روس میں پائی جاتی ہے اور جس کا نقطہ مرکزی یہ ہے کہ انفرادی جد وجہد کو بالکل مٹادیا جائے اور جس قدر دولت ہو وہ حکومت کے ہاتھ میں آجائے جو لوگ ہاتھ سے کام کرنے والے ہوں ان کے لئے تو مناسب گذارے مقرر کر دیئے جائیں مگر خالص علمی اور مذہبی کام کرنے والوں کو عضو بیکار قرار دے کر حکومت کی مدد سے محروم کر دیا جائے اور عام گذارہ سے زیادہ بچی ہوئی تمام دولت حکومت کے ہاتھ میں ہو اور کام اور مقام کا فیصلہ بھی حکومت کرے اور ماں باپ کو مذہب کی تعلیم دینے کا اختیار نہ دیا جائے اور اس تحریک کو ساری دنیا میں پھیلایا جائے یہاں تک کہ دنیا کی سب اقوام اس تحریک میں شامل ہو جائیں۔گو یہ لوگ اقتدار عوام کے حامی ہیں مگر شروع میں ایک لمبے عرصے تک یہ اقتدار عوام کو سونپنے کے لئے تیار نہیں۔یہ تحریک روس میں بالشوزم اور کمیونزم (COMMUNISM) اور دوسرے ممالک میں کمیونزم کہلاتی ہے۔اس تحریک کے اصولی نقائص یہ ہیں:- کمیونزم کے سات اصولی نقائص۔پہلا نقص اول- انفرادی جد و جہد کا راستہ بالکل۔بین بند کر دیا گیا ہے یہ اس تحریک میں ایک یعنی انفرادی جد وجہد کے رستہ کی بندش خطرناک نقص ہے جو گو اس وقت محسوس نہیں کیا جاتا مگر بعد میں کسی سمسم