انوارالعلوم (جلد 16) — Page 356
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) اول:- وہ ایسی کریمیں ملتے ہیں جن سے جسم نرم اور ڈھیلا ہو جائے ، مسام کھل جائیں، مساموں سے زہر اور میل نکل جائے اور سفیدی پیدا ہو جائے۔دوم - وہ ایسی کریمیں ملتے ہیں جن سے وہ پھر پست ہو جائیں، اُن کے مسام سکڑ جائیں اور اُن کے چہروں پر رونق پیدا ہو جائے۔گویا پہلے تو وہ ایسی چیزیں ملتے ہیں جن سے اُن کے مسام کھل جائیں اور میل وغیرہ نکل جائے اور پھر ایسی چیزیں ملتے ہیں جن سے اضمحلال اور اعضاء کا استرخاء جاتا رہے۔اسی طرح پوڈر لگاتے ہیں تا کہ سفیدی ظاہر ہو اور پھر سُرخیاں لگاتے ہیں تا کہ دوسروں کو جسم سے صحت کے آثار نظر آئیں۔اب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو وہ فرماتا ہے۔وُجُوهٌ يَوْمَئِذِنَّا ضِرَةٌ لا یہاں تم پوڈر اور کریمیں وغیرہ لگاتے ہو اور تم نہیں جانتے کہ قیامت کے دن کچھ منہ ہوں گے جو نَاضِرَہ ہوں گے۔نَاضِرَہ کے معنے عربی میں حسن اور رونق کے ہیں ، اور یہ دونوں الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں۔حسن کے معنے تناسب اعضاء کے ہوتے ہیں اور رونق کے معنے صحت کے اُن آثار کے ہوتے ہیں جو چہرے اور قومی سے ظاہر ہوتے ہیں۔اگر ایک شخص کا ناک پر پکا ہوا ہو، مگر اُس کے کلے اور ہونٹ سُرخ ہوں اور اُس کا رنگ سفید ہو تو اُس کے چہرے کی رنگت اُسے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔اسی طرح اگر کسی شخص کی آنکھیں خراب ہیں یا اتنی بڑی بڑی ہیں جیسے مٹکے ہوتے ہیں یا ما تھا ایسا چھوٹا ہوتا ہے کہ سر کے بال بھووں سے ملے ہوئے ہیں۔یا کلے اتنے پچکے ہوئے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہو گویا کہ دو تختیاں جوڑ کر رکھدی گئی ہیں تو وہ ہر گز حسین نہیں کہلا سکتا۔میں نے غور کر کے دیکھا ہے ، مختلف انسانی چہرے مختلف جانوروں سے مشابہت رکھتے ہیں اور اگر ایک پہلو سے انسانی چہروں کو دیکھا جائے تو بعض انسانی چہرے گیدڑ سے مشابہہ معلوم ہوتے ہیں، بعض گتے کے مشابہہ معلوم ہوتے ہیں، بعض سور کے مشابہہ معلوم ہوتے ہیں۔بعض یکی اور بعض چوہے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں۔کامل اور اچھا چہرہ وہ ہوتا ہے جس کی ان جانوروں سے کم سے کم مشابہت پائی جاتی ہو اور اگر لوگ کوشش کریں تو وہ اس نقص کو دُور کر سکتے ہیں مگر چونکہ میرا یہ مضمون نہیں اس لئے میں اس نقص کو دور کرنے کے طریق نہیں بتا سکتا صرف اجمالاً ذکر کر دیا ہے کہ اکثر انسانی چہرے بعض جانوروں کے مشابہہ ہوتے ہیں۔وہ زیادہ تر یہی کوشش کرتے ہیں کہ کریمیں مل لیں یا لپ سٹکیں استعمال کر لیں یا رُوج لگا لیں ، مگر چہرہ کی بناوٹ کو درست کرنے کے جو صحیح طریق ہیں اُن کو اختیار کرنے کی طرف توجہ نہیں