انوارالعلوم (جلد 16) — Page 357
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) کرتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کریموں اور غازوں اور لپ سٹکوں سے کیا بنتا ہے؟ اصل چیز تو چہرے کی بناوٹ درست ہونا ہے اور ہمارے مینا بازار میں جانیوالے سب ایسے ہی ہوں گے کہ انہیں کسی فیس پوڈر کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اُن کے نقش و نگار درست کر کے انہیں وہاں لے جایا جائے گا۔اگر کوئی شخص کا نا ہو گا تو اُس کا کا نا پن جاتا رہے گا لنگڑا ہو گا تو اُس کا لنگڑا پن جاتا رہے گا ، آنکھیں سانپ کی طرح باریک ہوں گی تو اُن کو موٹا کر دیا جائے گا، کسی کے دانت باہر نکلے ہوئے ہونگے تو اُس کے سب دانت موتیوں کی لڑی کی طرح بنا دیئے جائیں گے۔آخر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ خدا کے مقرب ہوں اور پھر عیب دار ہوں ، یقیناً اللہ تعالیٰ اُن کے تمام عیبوں کو دور کر کے انہیں جنت میں داخل کریگا۔حدیثوں میں ایک لطیفہ آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ وعظ فرما ایک لطیفہ رہے تھے کہ ایک بُڑھیا آئی اور کہنے لگی يَا رَسُولَ اللَّهِ ! یہ باتیں چھوڑیں اور مجھے یہ بتائیں کہ میں جنت میں جاؤں گی یا نہیں ؟ اب اُس کا یہ سوال بے وقوفی کا تھا مگر چونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے بھی بہت دق کیا کرتی تھی اِس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت مذاق سُوجھا اور آپ نے فرمایا، مائی ! جہاں تک میر اعلم ہے کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔وہ یہ سنتے ہی رونے پیٹنے لگ گئی کہ ہائے ہائے! میں دوزخ میں جاؤں گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے کب کہا ہے کہ تم دوزخ میں جاؤ گی۔اُس نے کہا کہ آپ نے ابھی تو فرمایا ہے کہ کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔آپ نے فرمایا روڈ نہیں وہاں سب کو جوان بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا، بوڑھے ہونے کی حالت میں جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا۔اصل بات یہ ہے کہ اگلے جہان کی زندگی جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہے مگر میں چونکہ مینا بازار کے مقابلہ کی اشیاء کا ذکر کر رہا ہوں اس لئے جسمانی حصہ پر زیادہ زور دینا پڑتا ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ وہ روحانی دنیا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی روح بغیر جسم کے نہیں ہوتی۔جیسے خواب میں تمہیں بیٹا ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو یہ خبر بعض دفعہ بیٹے کی شکل میں نہیں بلکہ آم کی شکل میں ہوتی ہے حالانکہ مراد بیٹا ہوتا ہے اسی طرح بظاہر جنت میں جو شراب ملے گی وہ شراب ہی ہوگی اور یہی نظر آئے گا کہ ایک پیالہ میں شراب پڑی ہوئی ہے، مگر اس کے پینے کے نتیجہ میں عقل تیز ہوگی اور بجائے بکواس کرنے کے انسان علم اور عرفان میں ترقی کرے گا ، بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ جو چیز دنیا میں تم