انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 198

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔ہے کہ جیسے براھین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگر چہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسی رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہونگے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنیوالا تھا تو ہی ہے اور ساتھ اس کے صدہا نشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنیوالا میں ہی ہوں ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔اور پھر میں نے اس پر کفایت نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیا تو آیات قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہوا کہ در حقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی اُمت میں سے آئے گا۔اور جیسا کہ جب دن چڑھ جاتا ہے تو کوئی تاریکی باقی نہیں رہتی اسی طرح صد ہا نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ میں اپنے تئیں مسیح موعود مان لوں۔میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو مجھے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی۔میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اُس نے گوشئہ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا ؟ میرا اس میں کیا قصور ہے۔اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اُس کو مجز کی فضیلت قرار دیتا تھا۔مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اُس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔مگر اس طرح سے