انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 197

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔دوسرے افراد ہیں جو آپ کے پاس بیٹھ گئے نہ کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔اس کے بعد مولوی صاحب تحریر فرماتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کس نے چھوڑا؟ ہیں کہ میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب تحریروں کو قبول کرتا ہوں اور آپ صرف ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۸ ء تک کی تحریرات کو، اب بتائیں کہ کیا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑا یا آپ نے؟ میں اس کا جواب پہلے دے چکا ہوں کہ یہ مجھ پر افتراء ہے کہ میں ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تحریروں کو چھوڑتا ہوں اور اس قسم کے افعال کے ارتکاب سے اس کے سوا اور کوئی امر ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑ دیا ہے ورنہ اس قسم کی غلط بات پر اصرار آپ کیوں کرتے جاتے ؟ جناب مولوی صاحب ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس بارہ میں بھی میں نے نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے چھوڑا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فرماتے ہیں۔سوال (۱) - تریاق القلوب کے صفحہ ۱۵۷ میں (جو میری کتاب ہے ) لکھا ہے۔اس جگہ کسی کو یہ و ہم نہ گزرے کہ میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے کہ جو غیر نبی کو نبی پر ہوسکتی ہے پھر ریویو جلد اول نمبر ۶ صفحہ ۲۵۷ میں مذکور ہے۔” خدا نے اِس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔پھر ریو یوہ صفحہ ۴۷۵ میں لکھا ہے۔” مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“ خلاصہ اعتراض یہ کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔الجواب: - یادر ہے کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر تھہراؤں۔خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : - قُل اُجَرِّدُ نَفْسِي مِنْ ضُرُوبِ الْخِطَابِ ، یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برتر ہے اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے میرا اس میں دخل نہیں ہے۔رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا۔سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض