انوارالعلوم (جلد 16) — Page 199
،، اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی اور جیسا کہ میں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے۔۹۸۰ اس تحریر کے مطابق میں نے اپنا ایمان کر لیا مگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑ گئے۔میں نے تو یہ طریق رکھا کہ جدھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رُخ کیا میں نے بھی ادھر کر لیا مگر آپ اس پر مصر رہے کہ جس طرف پہلے رُخ تھا میں تو ادھر ہی رکھوں گا۔جس طرح بعض غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ ہم تو مرزا صاحب کے اصل متبع ہیں انہوں نے براہین احمدیہ میں مسیح کو آسمان پر بتایا تھا ہم اس عقیدہ پر اب تک قائم ہیں۔مرزا صاحب اب اس عقیدہ کو چھوڑ گئے ہیں تو ہم اب کیا کریں۔مولوی صاحب ! اگر آپ غور فرمائیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس نے چھوڑا جو آپ کی زندگی میں تو عدالت میں قسم کھا کر کہتا تھا کہ مرزا صاحب نبی ہیں اور اب اس کا انکار کر دیا ہے۔اُس نے چھوڑا جو آپ کی زندگی میں تو آپ کو پیغمبر آخر زماں کر کے لکھتا تھا اور آپ کی صداقت کو دوسرے صلحائے امت کی زندگی پر پر کھنے کی دعوت دینے والوں پر اظہارِ غضب کرتا تھا مگر اب آپ کو صلحاء کے زمرہ میں شامل کرتا ہے اور آپ کو نبی کہنے والے کو کافر اور مرتد قرار دیتا ہے۔انَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پھر میں مولوی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس نے چھوڑا جو آپ کی نسبت لکھتا ہے کہ : - خود حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میں اپنے الہامات کو کتاب اللہ اور حدیث پر عرض کرتا ہوں۔اور کسی الہام کو کتاب اللہ اور حدیث کے مخالف ،، پاؤں تو اسے کھنگار کی طرح پھینک دیتا ہوں 99 یا اس نے جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بہتان ہے اور اس پر ایمان لاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی یقینی ہے اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔“ نیز یہ کہ وہ کلام جو آپ پر نازل ہوا۔یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور