انوارالعلوم (جلد 16) — Page 188
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔ہے اور عوام مسلمانوں کی اصطلاح سے صرف اسی قدر واسطہ ہے کہ ان کو غلط فہمی سے بچانے کے لئے ہم اس کا بھی لحاظ رکھ لیتے ہیں۔دوسرا حوالہ مولوی صاحب نے انجام آتھم سے درج کیا ہے جس کے بعض فقرات یہ ہے۔اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانامستلزم کفر نہیں۔مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے۔۱۰۰ اس حوالہ سے بھی وہی مطلب نکلتا ہے جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔بلکہ اس میں تو یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کے خوف سے آپ اس لفظ کے عام استعمال کو منع فرماتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس جگہ عام مسلمانوں سے مراد احمدی نہیں بلکہ غیر احمدی ہیں اور ان کو یہ دھوکا نہیں لگ سکتا تھا کہ وہ آپ کو نبی سمجھنے لگ جاتے کیونکہ جو محدث بھی نہیں مانتا وہ نبی کب ماننے لگا۔انہیں صرف یہ دھوکا لگ سکتا تھا کہ وہ یہ خیال کرنے لگ جاتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مستقل نبوت کے مدعی ہیں جو دوسرے کسی نبی کی اتباع کے بغیر حاصل ہوتی ہے اور قرآن کریم کی شریعت کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔ان کو اس مغالطہ سے بچانے کے لئے یہ ضروری تھا کہ اس حقیقت کا انکار کیا جاتا جو وہ لفظ نبی کے ساتھ مستلزم سمجھتے تھے مگر اس حقیقت کا ہمارے دین اور مذہب سے کیا تعلق؟ ہمارا عقیدہ تو خدا تعالیٰ کی اصطلاح، قرآن کریم کی اصطلاح، اسلام کی اصطلاح، سابق انبیاء کی اصطلاح اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات پر مبنی ہے اور ان کے رو سے نبی کی حقیقت صرف یہ ہے کہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاق پائے اور اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہوحتی کہ اس کی وحی میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو اور اس میں شک کرنا کفر کا مستلزم ہو۔۵۱ جناب مولوی محمد علی صاحب آگے چل کر کیا 190 ء سے پہلے کی تحریرات منسوخ ہیں؟ تحریر کرتے ہیں کہ وہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ گویا ۱۹۰۱ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ۱۹۰۱ ء سے پہلے کی تحریرات دربارہ نبوت منسوخ ہیں اور پھر اس پر فرماتے ہیں کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایسا کہا ہے کہ میری ۱۹۰۱ ء سے پہلے کی تحریرات منسوخ ہیں؟