انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 187

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔اس حوالہ سے اگر کچھ نکلتا ہے تو صرف یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق نبی کہا جاسکتا ہے۔ہاں ایک حقیقی معنے ایسے بھی ہیں کہ ان کے رو سے آپ کو نبی نہیں کہا جا سکتا۔ان کے رو سے آپ کی نسبت یہ لفظ مجاز ہے۔سو ہم بھی یہی مانتے ہیں کہ مسلمانوں میں نبی کی جو تعریف عام طور پر رائج ہے اس کے رو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حقیقی نبی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس تعریف کے رو سے نبی کے لئے شریعت کا لانا یا براہ راست نبوت پانا شرط ہے۔اور یہ شرط حقیقی طور پر آپ میں نہیں پائی جاتی ہاں چونکہ آپ علوم قرآن کو لائے ہیں اور قرآن کے مطالب عالیہ جن کو مسلمانوں نے مُردہ کی طرح کر دیا تھا اُن کو پھر آپ نے زندہ کیا ہے اور آسمان سے واپس لائے ہیں اس لئے مجازی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ آپ شریعت لائے ہیں مگر وہی شریعت جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے نہ کہ کوئی اور۔اور وہی قرآن بلا کم و کاست جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا اور جو مطابق پیشگوئی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرآنِ إِلَّا رَسْمُهُ ۸ صرف لفظوں کا ایک چولہ رہ گیا تھا اور اس کے اندر کا مغز اور اس کی معجزانہ تاثیر جاتے رہے تھے آپ پھر دنیا میں واپس لائے۔پس شریعت لانے کے ان مجازی معنوں کے رو سے آپ عام مسلمانوں کی تعریف نبوت کے مطابق مجازی نبی کہلائے کیونکہ حقیقی کتاب کوئی نہیں لائے صرف مجازی طور پر آپ کی نسبت کہا جا سکتا ہے کہ آپ کتاب لائے یعنی قرآن کریم جو رسم کے طور پر رہ گیا تھا اسے پھر اس کی پاک تاثیرات کیسا تھ آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔نیز جیسا کہ میں اوپر ثابت کر چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک عرصہ تک مسلمانوں کی عام تعریف کو خود بھی درست تصویر فرماتے تھے اور اُس وقت تک اس تعریف کے مطابق اپنے آپ کو مجازی نبی ہی تصویر فرماتے تھے۔مگر جب اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی نے جو بارش کی طرح نازل ہوئی۔آپ کو اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا کہ تو آپ خدا تعالیٰ کی اصطلاح، قرآن کی اصطلاح، اسلام کی اصطلاح اور سابق نبیوں کی اصطلاح کے مطابق اپنے آپ کو في الحقيقت نبی سمجھنے لگے لیکن عام مسلمانوں کی اصطلاح کی رو سے پھر بھی اپنے آپ کو مجازی نبی قرار دیتے تھے۔جیسے کہ ہم بھی اس اصطلاح کی رو سے اب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مجازی نبی اور استعارہ نبی کا نام پانے والا قرار دیتے ہیں۔گو جہاں تک دین کا اور عقیدہ کا تعلق ہے ہمیں اسی اصطلاح سے واسطہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ، قرآن کریم کی ، اسلام کی اور سابق انبیاء کی