انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 189

اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ میرا جواب یہ ہے کہ نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی کہا کہ میری ۱۹۰۱ ء سے پہلے کی تحریرات منسوخ ہیں اور نہ میں نے کبھی کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ۱۹۰۱ ء سے پہلے کی تحریرات درباره نبوت منسوخ ہیں میں نے جو کچھ کہا ہے فقط یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دو دور آئے ہیں۔ایک وہ دور جب کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تو آپ کو نبی اور رسول کہا جاتا تھا اور آپ بھی یہ دعوی فرماتے تھے کہ مجھے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی ہے لیکن چونکہ عام مسلمانوں میں یہ خیال رائج تھا کہ نبی وہ ہے جو شریعت لائے یا سابق نبی کا متبع نہ ہو آپ اپنے الہامات کی تاویل فرماتے تھے اور سمجھتے تھے کہ نبی کی حقیقت میرے اندر نہیں پائی جاتی۔اور دوسرا دور وہ آیا کہ اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی نے آپ کی توجہ کو اس طرف پھرا دیا کہ آپ فی الواقع نبی ہیں اور نبی کی حقیقی تعریف اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ نہیں کہ وہ شریعت جدیدہ لائے یا کسی سابق نبی کا متبع نہ ہو تب آپ نے اس تعریف کے مطابق اپنے آپ کو نبی کہنا شروع کر دیا لیکن مسلمانوں میں رائج معنوں کے رو سے اپنے آپ کو پھر بھی نبی نہیں کہا بلکہ ان معنوں کی رو سے نبوت کے دعوی کا انکار کرتے رہے۔اب اس پر یہ کہنا کہ میں ۱۹۰۱ء سے پہلے کی سب تحریرات دربارہ نبوت کو منسوخ قرار دیتا ہوں مجھ پر ایک افتراء ہے میں تو ان تحریرات کو سوائے اس کے کہ بعد میں آپ نے عوام مسلمانوں کی تعریف نبوت اور خدا تعالیٰ کی اصطلاح میں فرق بتایا اور سوائے اس کے کہ پہلے آپ سمجھتے تھے کہ آپ حقیقی تعریف نبوت کے ماتحت نبی نہیں ہیں اور بعد میں یہ سمجھنے لگے کہ چونکہ وہ حقیقی تعریف نہیں ہے آپ نبی ہیں اور کسی امر کو منسوخ قرار نہیں دیتا بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ اپنے دعوی کی جو تشریح آپ نے شروع میں بیان فرمائی وہی آخر تک بیان فرماتے رہے اور اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں ہوا آپ ابتداء سے اس امر کے مدعی تھے کہ آپ پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے گئے ہیں اور یہی دعویٰ آپ کا آخری بھی تھا اس میں سرِ مو فرق نہ آیا۔پس میرے اس عقیدہ کے ہوتے ہوئے جسے میں نے اپنی کتاب حقیقت النبوۃ میں بھی بیان کر دیا ہے یہ کہنا کہ گویا میں دربارہ نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام تحریرات کو منسوخ قرار دیتا ہوں مجھ پر ایک اتہام ہے اور ایسا اتہام لگانے والا یقیناً اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔میری مندرجہ ذیل تحریرات اس بارہ میں قابل غور ہیں: خدا تعالیٰ نے کسی پہلے حکم کو بدلا نہیں اور آپ جزوی نبی سے پورے نبی نہیں بنائے گئے۔۵۲۰۷ پس تریاق القلوب کی تحریر کے بعد آپ کے اجتہاد اور عقیدہ کو بدلا گیا نہ کہ امر واقعہ اور