انوارالعلوم (جلد 16) — Page 115
احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔انوار العلوم جلد ۱۶ کہلا سکو، تم بے شک چشم پوشی کرو مگر اُس وقت جب تم چشم پوشی سے بہادر کہلا سکو، تم بے شک غریب پروری کرو مگر اُسی وقت جب تک غریب پروری سے بہادر کہلا سکو، تم بے شک مظلوم بنو مگر اُسی وقت جب تم مظلوم بن کر بہادر کہلا سکو اور اگر تمہارا دین اور تمہارا ایمان کہتا ہے کہ اب چشم پوشی کا وقت نہیں اب پیچھے ہٹنے کا وقت نہیں تو اس صورت میں تم اپنا فرض ادا کرنے کے لئے آگے بڑھو اور پھر جو کچھ درست سمجھتے ہو اس کو دلیری سے کرو۔مجھے حیرت آتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ ایک احمدی دوسرے کو گالی دیتے سُن کر جوش میں آ جاتا ہے اور خود بھی اس کے مقابلہ میں گالی دے دیتا ہے حالانکہ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ تم گالی سن کر صبر کرو۔یا اگر کوئی شخص تمہیں تھپڑ مارتا ہے اور تم بھی جواب میں اسے تھپڑ مار دیتے ہو تو یہ اسلامی بہادری نہیں۔اسلامی بہادری یہ ہے کہ جب کوئی شخص تمہیں تھپڑ مارے تو تم اسے کہو کہ تم نے جو کچھ کیا ناواقفیت سے کیا مگر میرا مذہب مجھے یہی کہتا ہے کہ میں دوسرے کو معاف کردوں اس لئے میں تمہیں کچھ نہیں کہتا بلکہ معاف کرتا ہوں بشرطیکہ تم یہ سمجھو کہ اس کو معاف کرنے کا فائدہ ہے اور یاد رکھو کہ نوے فیصدی فائدہ ہی ہوتا ہے۔پس بہادری یہ ہے کہ تم نوے فیصدی لوگوں سے کہہ دو کہ بے شک ہمیں مارلو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے بشرطیکہ تمہارے بازو میں طاقت ہو، بشرطیکہ تمہاری آنکھوں میں حدت ہو اور بشرطیکہ تمہارا سینہ اُبھرا ہوا ہو۔تب بے شک تمہارے اس عفو کا دوسرے پر اثر پڑے گا لیکن اگر تم گبڑے ہوں تمہارا ہاتھ خالی ہو تمہارے باز و دبلے پتلے ہوں تمہاری آنکھوں میں چمک نہ ہوا اور تم دوسرے کو یہ کہو کہ میں تمہیں معاف کرتا ہوں تو ہر شخص کہے گا عصمت بی بی از بے چارگی مقابلہ کی طاقت نہیں اور زبان سے معاف کیا جاتا ہے۔دیکھو! اسلام تم سے صبر کا مطالبہ کرتا ہے، اسلام تم سے رحم کا مطالبہ کرتا ہے، اسلام تم سے عفو کا مطالبہ کرتا ہے لیکن اسلام تم سے بہادری کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔اگر تم دس آدمیوں کو پچھاڑ سکتے ہو لیکن جب کوئی شخص تمہیں تھپڑ مارتا ہے تو تم گردن جھکا کر یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلے آتے ہو کہ میں نے تمہیں معاف کیا تو سارا گاؤں تمہارے اس فعل سے متاثر ہو گا۔لیکن اگر تم کمزور ہونے کی وجہ سے ایک شخص کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے اور پھر اسے کہتے ہو کہ میں نے تمہیں معاف کیا تو ہر شخص تم پر ہنسے گا اور کہے گا کہ یہ معاف کرنے والا جھوٹا ہے جانتا ہے کہ اگر میں نے ہاتھ اُٹھایا تو دوسرا تھپڑ مار کر میرے سارے دانت توڑ دے گا اس لئے یونہی اس نے کہہ دیا ہے کہ میں نے معاف کیا ورنہ جانتا ہے کہ مقابلہ کرنے کی اس میں ہمت نہیں۔میں نے اگر تمہیں ورزش کی