انوارالعلوم (جلد 16) — Page 114
انوار العلوم جلد ۱۶ احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔۔ہوتے ہو ایک شخص پھٹے پرانے کپڑوں میں تمہارے پاس آ جاتا ہے اور کہتا ہے میں مسافر ہوں میری مدد کی جائے۔تم اُس سے پوچھتے ہو تم کون ہو؟ اور وہ کہتا ہے سید۔یہ سنتے ہی تم فوراً اپنی چادر اس کے لئے بچھا دیتے ہو اور اس کے ساتھ ادب سے باتیں کرنا شروع کر دیتے ہو۔آخر اس کے ساتھ کون سی طاقت ہے جو تمہیں اس بات پر مجبور کر دیتی ہے کہ تم اس کے ساتھ عزت سے پیش آؤ اور اس سے ادب کا سلوک کرو۔وہ یہی طاقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے پس اس کی طاقت اپنی نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طاقت ہے جو آپ نے سادات میں منتقل کی اور جو آپ نے ہر مسلمان کے اندر منتقل کی اور ہر ایک نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اس طاقت کو اپنے اندر جذب کر کے اس سے فائدہ اُٹھایا۔ابو بکر نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا، عمرؓ نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا ، عثمان نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا، علی نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا، طلحہ اور زبیر نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا اور تمہارے باپ دادوں نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا۔اب تم جیسا کام کرو گے دنیا میں ویسا ہی تغیر پیدا ہو گا اور جتنا زور سے گیند پھینکو گے اتنا ہی دُور وہ چلا جائے گا۔پس یہ نادانی کا خیال ہے جو بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے ان قربانیوں سے کیا فائدہ اُٹھانا ہے۔اگر ہماری قوم، ہمارے خاندان اور ہماری نسل کے لئے عزت کا مقام حاصل ہو جائے تو درحقیقت وہ عزت ہمیں ہی حاصل ہوگی۔پس اس قسم کے وسوسوں کو چھوڑ کر اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرو جو تمہیں دین کے لئے ہر قسم کی قربانیوں پر آمادہ کر دے اور تمہیں سچا بہا در بنا دے۔میں نے جب مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی تھی تو در حقیقت میں نے تم سے یہ امید کی تھی کہ تم بچے بہادر بن جاؤ اور سچا بہادر وہ ہوتا ہے جو جھوٹ سے کام نہیں لیتا، جو شخص دلیری سے کسی فعل کا ارتکاب کرتا ہے مگر بعد میں اپنے اس فعل پر بشر طیکہ وہ بُرا ہو نادم ہوتا ہے اور اسے چھپانے کی کوشش کرتا نہیں وہ سچا بہادر ہے لیکن اگر وہ کوئی غلطی تو کرتا ہے مگر جب پکڑا جاتا ہے تو کہتا ہے میں نے یہ فعل نہیں کیا تو وہ جھوٹا بہادر ہے۔اگر وہ اس کام کو اچھا نہیں سمجھتا تھا تو اس نے وہ کام کیا کیوں؟ اور اگر غلطی سے کر لیتا ہے تو پھر دلیری سے اس کا اقرار کیوں نہیں کرتا۔اسلام جس بہادری کا تم سے تقاضا کرتا ہے وہ یہ ہے کہ تم بے شک معاف کرو مگر اُس وقت جب تم اپنے عفو سے بہادر