انوارالعلوم (جلد 16) — Page 116
انوار العلوم جلد ۱۶ احمد بیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔نصیحت کی تو اسی لئے کہ اگر اسلام کے احکام کے ماتحت تم کسی وقت عفو سے کام لو تو لوگ تمہارے اس عفو کو بُزدلی کا نتیجہ نہ سمجھیں ، دھوکا اور فریب نہ سمجھیں۔جب تمہارے بازو میں یہ طاقت ہو کہ تم ایک دفعہ کسی پر ہاتھ اُٹھاؤ تو اُس کے دو چار دانت نکال دو اور پھر اس کے قصور پر اسے معاف کر دو تو دیکھو اس کا کتنا اثر ہوتا ہے۔لوگ زبر دست کی معافی سے متاثر ہوتے ہیں کمزور کی معافی سے متاثر نہیں ہوتے اور بہادری اُسی کی سمجھی جاتی ہے جس میں طاقت ہو اور پھر عفو سے کام لے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک لڑائی میں شامل تھے۔ایک بہت بڑا دشمن جس کا مقابلہ بہت کم لوگ کر سکتے تھے آپ کے مقابلہ پر آیا اور کئی گھنٹے تک آپ کی اور اس یہودی پہلوان کی لڑائی ہوتی رہی۔آخر کئی گھنٹے کی لڑائی کے بعد آپ نے اس یہودی کو گرا لیا اور اس کے سینہ پر بیٹھ گئے اور ارادہ کیا کہ پنجر سے اُس کی گردن کاٹ دیں کہ اچانک اس یہودی نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔آپ فوراً اسے چھوڑ کر سیدھے کھڑے ہو گئے وہ یہودی سخت حیران ہوا اور کہنے لگا یہ عجیب بات ہے کہ کئی گھنٹے کی کشتی کے بعد آپ نے مجھے گرایا اور اب یکدم مجھے چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں یہ آپ نے کیسی بے وقوفی کی ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا میں نے بے وقوفی نہیں کی بلکہ جب میں نے تمہیں گرایا اور تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو یکدم میرے دل میں غصہ پیدا ہوا کہ اس نے میرے منہ پر کیوں تھوکا ہے مگر ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ اب تک تو میں جو کچھ کر رہا تھا خدا کے لئے کر رہا تھا اگر اس کے بعد میں نے لڑائی جاری رکھی تو تیرا خاتمہ میرے نفس کے غصہ کی وجہ سے ہو گا خدا کی رضا کے لئے نہیں ہوگا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس وقت میں تجھے چھوڑ دوں جب غصہ جاتا رہے گا تو پھر خدا کے لئے میں تجھے گرا لونگا ہے تو انہیں اپنے عمل کے پاکیزہ ہونے کا اس قدر احساس تھا کہ انہوں نے اس خطرہ کو تو بر داشت کرلیا کہ دشمن سے دوبارہ مقابلہ ہو جائے مگر یہ مناسب نہ سمجھا کہ ان کے اعمال میں کسی قسم کی کمزوری پیدا ہو۔میں چاہتا ہوں کہ تمہارے اعمال بھی خدا کے لئے ہوں ان میں نفسانیت کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ان میں بزدلی کا کوئی شائبہ نہ ہو، اور ان میں تقویٰ کے خلاف کسی چیز کی آمیزش نہ ہو۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص اتنا مضبوط، اتنا بہادر اور اتنا دلیر اور اتنا جری ہو کہ جب تم کسی کو معاف کرو تو لوگ خود بخود یہ کہیں کہ تمہارا عفو خدا کیلئے ہے کمزور ہونے کی وجہ سے نہیں۔ایسی قربانی دلوں کو موہ لیتی ہے اور ایسے انسان پر حملہ کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ حملہ کرنے والے کا دل فتح ہو جاتا ہے۔