انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 541

۶۸ نظام تو انوار العلوم جلد ۱۶ جھگڑوں کو دور کرنے کے لئے وہ یہ ہدایت دیتا ہے۔وَاِنْ طَائِفَتَنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأخْرى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى ۲۸ أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ یعنی اگر دو حکومتیں آپس میں لڑ پڑیں تو تم ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو اور اگر وہ صلح اور پیار سے آپس کے جھگڑے کو نہ پیپٹائیں اور ایک حکومت دوسرے پر چڑھائی کر دے تو پھر ساری حکومتیں مل کر چڑھائی کرنے والے کا مقابلہ کریں۔جب وہ اپنی ہار مان لے اور کہے بہت اچھا میں لڑائی بند کرتی ہوں تو پھر دوبارہ ان کے درمیان صلح کراؤ اور تفصیلات طے کرو۔مگر یاد رکھو جب شرائط صلح طے کرنے لگو تو اس غصہ کی وجہ سے کہ اس نے کیوں جنگ کی۔عدل و انصاف کو ترک نہ کرو اور ایسا نہ کرو کہ پھر اپنا حصہ بھی مانگنے لگو بلکہ جو جھگڑا تھا اُسی تک اپنے آپ کو محدود رکھو۔دیکھو یہ کیسی زبر دست پیشگوئی ہے جب یہ آیت نازل ہوئی اُس وقت کوئی مسلمان گروہ ایسے نہ تھے جن میں لڑائی کا خطرہ ہوتا۔پس در حقیقت یہ آئندہ کے متعلق ایک پیشگوئی تھی۔بغی اور قَاتِلُوا کے الفاظ بھی بتا رہے ہیں کہ اس کا تعلق حکومت سے ہے چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دو حکومتیں آپس میں جھگڑ پڑیں تو تمہیں یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ ان حکومتوں کو مجبور کرو کہ وہ قوموں کی پنچایت سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرائیں۔اگر وہ منظور کر لیں تو بہتر اور اگر منظور نہ کریں اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کر دے تو باقی سب کا فرض ہے کہ اس کے مقابلہ میں یکجا ہو جائیں اور اس پر حملہ کر کے اسے مغلوب کریں اور آخر میں جب مغلوب ہو کر وہ صلح پر آمادہ ہو جائے تو انصاف اور دیانت کے ساتھ شرائط طے کرو۔انتقام کے جوش میں اس قوم کے حصے بخرے کرنے اور ذاتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو۔اس آیت میں جو اصول بتائے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔( 1 )۔اگر حکومتوں میں اختلاف ہو تو دوسری حکومتیں زور دے کر انہیں تبادلۂ خیالات کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں۔(2)۔اگر ان میں سے کوئی فریق نہ مانے اور جنگ کرے تو سب مل کر لڑنے والے سے جنگ کریں۔(3)۔جب حملہ آور مغلوب ہو جائے اور باہمی سمجھوتہ کے فیصلہ پر راضی ہو جائے تو پھر سب ساتھ مل کر صلح کا فیصلہ کرائیں (آیت میں پہلی صلح صلح سے کام کرنے اور آپس میں مصالحت سے رہنے کے معنوں میں ہے اور دوسری صلح شرائط صلح سے طے کرانے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ دوبارہ شرائط کے کوئی معنے نہیں۔عدل کا اضافہ بھی اس پر دال ہے )۔