انوارالعلوم (جلد 16) — Page 540
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو چاہتے ہیں تو ہم اس سے متفق نہیں۔تم اپنے گھر بیٹھو اور انہیں اپنے گھر میں رہنے دو۔آجکل تمام کا لو نیز یشن کی بنیاد اسی غلط دعویٰ پر ہے کہ ہم ان کی بھلائی کے لئے ان کے ملک پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اور یہی بہانہ ہر ملک پر قبضہ جماتے وقت کیا جاتا ہے مگر اس دعویٰ کی حقیقت تھوڑے عرصہ کے بعد ہی کھل جاتی ہے جب اس ملک کی تمام دولت اپنے قبضہ میں لے لی جاتی ہے اور وہاں کے لوگوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ایسٹ افریقہ میں چلے جاؤ وہاں یورپین گورنمنٹ ہے مگر حالت یہ ہے کہ وہاں انگریز تو بڑے بڑے مالدار ہیں مگر خود وہاں کے باشندے غربت کی حالت میں ہیں اور ان کے خادم بن کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔پس فرماتا ہے کہ اپنے آدمیوں کی بھلائی کی فکر کرو دوسروں کو ان کے حال پر چھوڑ دو وہ غریب جس طرح ہوگا اپنی خبر گیری کر لیں گے۔اگر کہا جائے کہ کیا ان کی مدد نہ کی جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ دوسروں کی خدمت مت کرو وہ جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ لالچ اور ذاتی فائدہ کیلئے خبر گیری مت کرو۔اب خدمت تو ایک مدرس بھی کرتا ہے مگر اس کی خدمت اتنی ہی ہوتی ہے کہ علم پڑھاتا ہے اور تنخواہ وصول کر لیتا ہے مگر یہ لوگ تو جب کسی ملک میں جاتے ہیں تو وہاں کی زمینیں اپنے آدمیوں میں بانٹ دیتے ہیں اور ہزاروں لوگ خانماں برباد ہو جاتے ہیں۔پس فرماتا ہے یہ طریق درست نہیں۔اول تو دوسروں کے ملک میں سیاسی طور پر نہ جاؤ اور اگر جاؤ تو خادموں کی حیثیت سے جاؤ۔پس دوسروں کے فائدہ کے لئے بغیر ملک پر قبضہ کرنے کے مدد دینا منع نہیں۔منع یہی ہے کہ انسان خادم کی حیثیت سے نہ جائے بلکہ ملک پر قبضہ کرنے کے لئے جائے۔اب دیکھو بالشویک نے بھی کچھ کمی نہیں کی وہ فن لینڈ پر چڑھ دوڑے اور اس پر قبضہ کر لیا اور شور یہ مچا رہے تھے کہ ہم وہاں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔پس اسلام کہتا ہے یہ طریق درست نہیں تمہیں اس سے اجتناب کرنا چاہئے حقیقت یہ ہے کہ تمام کالونیز کا سوال صرف اور صرف اس طرح حل ہو سکتا ہے جو اسلام نے بتایا ہے ورنہ موجودہ طریقے سب غلط اور نادرست ہیں۔اسلامی لیگ آف نیشنز اور اس کے چار بنیادی اصول تیرا اصل اسلام یہ بتاتا ہے کہ جب تک دنیا ایک محور پر نہیں آجاتی امن کے قیام کے لئے سب کو ان کی حدود کے اندر رکھو۔اسلام کا اصول یہ ہے کہ ساری دنیا کو اکٹھا کر کے ایک محور پر لایا جائے مگر جب تک ایسا نہیں ہو جاتا اُس وقت تک ۶۷