انوارالعلوم (جلد 16) — Page 484
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو سُبْحَانَ اللهِ کہتا اور جب پلاؤ کھاتا تب بھی سُبْحَانَ اللہ کہتا کیونکہ وہ سمجھتا تھا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی شخص بے ایمان ہوتا تب بھی خیال کرتا تھا کہ میں خدا تک تو نہیں پہنچ سکتا خاموش ہی رہوں مگر اب وہ سارا الزام جو پہلے خدا کو دیا جاتا تھا بندوں کو دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ امیر اور طاقتور لوگ یہ چاہتے ہیں کہ غریبوں کو ماریں پیٹیں اور اُن کا گلا گھونٹیں۔پس نقطہ ء نگاہ کے بدلنے سے احساس بہت زیادہ تیز ہو گئے ہیں۔مشینری کی ایجاد سے امارت یوں تو یہ امتیاز ہمیشہ سے چلا آتا ہے اور شاید اگر اس کا سلسلہ چلایا جائے تو حضرت آدم علیہ السلام کے قریب و غربت کے امتیاز میں زیادتی زمانہ تک پہنچ جائے مگر بظاہر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جوں جوں تمدن ترقی کرے گا یہ امتیاز مٹتا چلا جائے گا چنانچہ اوّل اوّل جب مشینیں نکلی تھیں تو لوگوں نے بڑی بڑی بغاوتیں کی تھیں۔امراء کہتے تھے اس طرح غرباء کی حالت سدھر جائے گی اور زیادہ لوگوں کو کام ملنے لگ جائے گا اور غرباء کہتے تھے ایک مشین دس مزدوروں کا کام کرے گی تو مزدور بیکار ہو جائیں گے۔اب واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ خواہ زیادہ لوگوں کو کام ملا ہو یا نہ ملا ہومگر مشینری کی ایجاد نے غریب اور امیر میں امتیاز کو بہت بڑھا دیا ہے۔غرباء کی حالت کو سدھارنے کی اس میں کوئی طبہ نہیں کہ بعض اصلاحیں بھی ہوئیں کوئی نیک دل فلسفی اُٹھا اور اُس نے غرباء کوششیں اور اُن میں ناکامی کی وجہ کی بہتری کے لئے کوئی تدبیر پیدا کردی ، کوئی نیک بادشاہ اُٹھا ، یا کوئی نیک دل تاجر کھڑا ہوا اور اُس نے حکومت کے کسی شعبہ میں یا کارخانوں میں اصلاح کر دی مگر دنیا کی اصلاح جس پر تمام لوگوں کے امن کا دار ومدار تھا بہ حیثیت مجموعی نہ ہوئی اور عوام کی تکلیفیں بدستور قائم رہیں۔چنانچہ اب بھی اکثر یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ ایک شخص کے سامنے سے کیکوں کے ٹکڑے اُٹھا کرکتوں کے آگے ڈالے جاتے ہیں اور دوسرے شخص کے بچے سوکھی روٹی کے لئے بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں۔یہ مبالغہ نہیں ہر روز دنیا میں کئی ہزار بلکہ کئی لاکھ ماں باپ ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو بُھو کا سلاتے ہیں اُمراء اگر چاہیں بھی تو پھر بھی وہ اُن کی مدد نہیں کر سکتے۔آخر ایک امیر کو کیا پتہ کہ ہمالیہ پہاڑ کے دامن میں فلاں جھونپڑی کے اندر ایک غریب عورت کا بچہ بھوک سے تڑپ