انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 483

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو شادی کرنا یا اُسے لڑکی دینا پسند نہیں کیا جاتا تھا مگر پھر بھی وہ اس رنگ میں پاس رہتے تھے کہ مثلاً مالک بھی فرش پر بیٹھا ہوا ہے اور اُس کا نو کر بھی ساتھ ہی بیٹھا ہوا ہے یا مالکہ میٹھی ہے تو اُس کے ساتھ اُس کی لونڈی بھی بیٹھی ہے مگر اب یہ ہوتا ہے کہ مالک تو کرسی پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے اور نوکر ہاتھ باندھے سامنے کھڑا ہوتا ہے وہ چاہے تھک جائے اُس کی مجال نہیں ہوتی کہ آقا کے سامنے بیٹھ جائے۔اسی طرح سواریوں کو لے لو پہلے ان میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا تھا۔یہ تو ہو جاتا تھا کہ ایک کا گھوڑا زیادہ قیمت کا ہو گیا اور دوسرے کا کم قیمت کا مگر آجکل تھرڈ کے مقابلہ میں فسٹ اور سیکنڈ کلاس کا جو فرق ہے وہ بہت زیادہ نمایاں ہے۔اسی طرح مکانوں کی ساخت میں اتنا فرق پیدا ہو گیا ہے کہ غرباء کے مکانوں اور اُمراء کے مکانوں میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔فرنیچر کی اتنی قسمیں نکل آئی ہیں کہ کوئی غریب ان کو خرید ہی نہیں سکتا۔جب تک اُمراء | قالین بچھاتے رہے غرباء اس کے مقابلہ میں کوئی سستا سا قالین یا کپڑا ہی بچھا لیتے مگر اب فرنیچر کی اتنی قسمیں ہوگئی ہیں کہ ادنیٰ سے ادنی فرنیچر بھی غریب آدمی خرید نہیں سکتا۔پہلے تو امیرلوگوں نے اگر قالین بنائے تو کشمیریوں نے گبھا بنالیا۔مگر اب گوچ اور کرسیوں اور میزوں وغیرہ میں اُمراء کی نقل کرنا غرباء کی طاقت برداشت سے بالکل باہر ہے۔غرض بڑوں اور چھوٹوں میں یہ امتیاز اس قدر ترقی کر گیا ہے کہ اب یہ امتیاز آنکھوں میں چبھنے لگ گیا ہے۔غربت و امارت کے متعلق پرانے نظریہ پھر ایک یہ بھی فرق ہے کہ اب احساسات بھی تیز ہو گئے ہیں۔پہلے زمانہ میں عام کے مقابلہ پر نیا نقطہ ء نگاہ اور اس کا نتیجہ طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سب دولت اللہ میاں کی ہے۔اگر کوئی بھوکا ہے تو اس لئے کہ اللہ تعالی نے اسے بھوکا رکھا اور اگر کسی کو روٹی ملتی ہے تو اس لئے کہ اللہ تعالٰی اس کو روٹی دیتا ہے۔مگر اب تعلیم اور فلسفہ کے عام ہو جانے کی وجہ سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر غریب بھو کے ہیں تو اس لئے نہیں کہ اللہ نے انہیں بھوکا رکھا ہوا ہے بلکہ اس لئے کہ امراء نے ان کی دولت لوٹ لی ہے اور اگر امیر آرام میں ہیں تو اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو آرام میں رکھا ہوا ہے بلکہ اس لئے کہ انہوں نے غریبوں کو لوٹ لیا ہے۔پس آج نقطہ ء نگاہ بدل گیا ہے اور اس نقطہ ء نگاہ کے بدلنے کی وجہ سے طبائع میں احساس اور اس کے نتیجہ میں اشتعال بہت بڑھ گیا ہے۔پہلا صبر سے کام لیتا تھا اور اگر اللہ تعالیٰ سے اُسے محبت ہوتی تھی تو جب اُسے فاقہ آتا تب بھی