انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 485

۱۳ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو تڑپ کر مر رہا ہے۔دتی یا لاہور کے امراء کو کیا علم کہ دُنیا کے دُور اُفتادہ علاقوں میں غرباء پر کیا گذر رہی ہے اور وہ کیسے کیسے مشکلات سے دو چار ہورہے ہیں۔اول تو اُن کے دلوں میں غرباء کی مدد کی خواہش ہی پیدا نہیں ہوتی اور اگر خواہش پیدا ہو تو اُن کے پاس ایسے سامان نہیں ہیں جن سے کام لے کر وہ تمام دُنیا کے غرباء کی تکالیف کو دُور کر سکیں۔انہیں کیا پتہ کہ غرباء کہاں کہاں ہیں اور ان کی کیا کیا ضرورتیں ہیں۔امراء کے مقابلہ پر غرباء امیر لوگ بیمار ہوتے ہیں تو بعض دفعہ ڈاکٹر انہیں پچاس پچاس روپیہ کی پیٹینٹ دوا ئیں بتا کر چلا جاتا ہے مگر اُن کی ناقابل برداشت حالت کی حالت یہ ہوتی ہے کہ بازار سے چھ سات شیشیاں منگا کر اُن میں سے کسی ایک کو کھولتے ہیں اور ذرا سا چکھ کر کہتے ہیں یہ دوائیں ٹھیک نہیں کوئی اور ڈاکٹر بلاؤ۔چنانچہ ایک اور ڈاکٹر آتا اور وہ بھی تھیں چالیس روپیہ کی کوئی اور پیٹینٹ دوائیں لکھ کر چلا جاتا ہے۔غرض معمولی معمولی زکاموں اور نزلوں پر وہ دودو، چار چار سو روپیہ کی دوائیں خرچ کر دیتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ایک غریب عورت کے بچے کو نمونیا ہو جاتا ہے اور طبیب اسے مکو کا عرق یا لسوڑیوں کا جو شاندہ بتاتا ہے اور وہ لسوڑیوں کا جوشاندہ تیار کرنے کے لئے سارے محلہ میں دھیلا مانگنے کے لئے پھرتی ہے اور کوئی شخص اسے دھیلا تک نہیں دیتا۔آخر ماں کی مامتا تو ایک غریب عورت کے دل میں بھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسے امیر عورت کے دل میں مگر وہاں یہ حالت ہوتی ہے کہ بچہ اگر چھینک بھی لے تو ڈاکٹر پر ڈاکٹر آنا شروع ہو جاتا ہے ، دوائیاں شروع ہو جاتی ہیں ، کھلائیوں کو ڈانٹا جاتا ہے کہ تم نے بچے کو ہوا لگا دی مگر ایک ویسی ہی ماں دَر دَر دھکے کھاتی ہے اور اسے ایک دھیلا تک میسر نہیں آتا اور اُس کا بچہ تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔تم اپنے اردگرد کے گھروں پر نگاہ دوڑاؤ، تم اپنے محلوں میں پوچھو تمہیں ایسی سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں مل جائیں گی۔یہ غربت بعض دفعہ اس حد تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے کہ بالکل نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔غرباء کی درد ناک حالت میرے پاس ایک دفعہ ایک غریب عورت آئی اور اس نے اپنا مدعا بیان کرنے سے قبل بڑی لمبی تمہید بیان کی اور بڑی اور اس کا بھیانک منظر لجاجت کی اور بار بار کہا کہ میں آپکے پاس بڑی آس اور امید لے کر آئی ہوں۔میں اُسے جتنا کہوں کہ مائی کام بیان