انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 459

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور غالب کا یہ نظریہ اس زمانہ میں خاص طور پر درست معلوم ہوتا ہے مٹی کے برتن بہت اچھے ہیں پیسے کم خرچ آتے ہیں اور اگر ٹوٹ جائے تو آسانی سے اور لیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ میں زمینداروں کو ایک اور نصیحت بھی زمینیں اور مکانات ابھی نہ خریدیں کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آجکل انہیں پیسے خوب مل رہے ہیں ہر چیز گراں فروخت ہو رہی ہے اور ابھی خدا تعالیٰ نے چاہا تو اور بھی پیسے انہیں آئیں گے اور حالت کے بہتر ہونے پر انہیں مغرور نہ ہونا چاہئے۔قرآن کریم نے اکثر اکثر کر چلنے سے منع فرمایا اور فرمایا ہے کہ اس طرح انسان نہ آسمان پر پہنچ سکتا ہے اور نہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے لے پہلے ان کی حالت بہت خراب تھی حتی کہ زیور گروی کر کے لگان ادا کرنا پڑتا تھا مگر یہ دن ان کی کمائی کے ہیں ایسے دن ہمیں پچیس سال کے بعد آتے ہیں ہمیشہ ایسے حالات نہیں رہتے اس لئے انہیں چاہئے کہ روپیہ کو محفوظ رکھیں۔بعض زمیندار زمینیں خریدنے پر زور دیتے ہیں مگر یہ زمین خریدنے کا وقت نہیں اِن حالات میں جو زمین خریدے گا وہ سخت نقصان اُٹھائے گا اس وقت روپیہ کو محفوظ کر لینا چاہئے خواہ یہاں امانت کے طور پر جمع کرا دیا جائے اور خواہ اپنے اپنے ہاں کسی محفوظ مقام میں جمع کرا دیا جائے۔جنگ کے بعد جب یورپ کے لوگ غلہ خرید چکیں گے اُس وقت قیمتیں رگریں گی اور وہ وقت زمینیں وغیرہ خریدنے کا ہوگا یہ نہیں ہے۔پچھلی جنگ میں زمینوں کی قیمتیں اتنی چڑھ گئی تھیں کہ ۲۵ ،۳۰ ہزار روپیہ مربع کی قیمت ہوگئی تھی مگر پھر ایسی گری کہ گزشتہ سالوں میں چند سو روپیہ سالانہ پر ایک مربع ٹھیکہ پر کوئی نہیں لیتا تھا اور قیمت چھ سات ہزار ہوگئی تھی پس یہ وقت زمینیں اور مکانات وغیرہ خریدنے کا نہیں اگر کسی کے پہلو میں کسی ایسے شخص کا مکان ہو جس سے ہمیشہ جھگڑا وغیرہ رہتا ہو تو ایسا مکان وغیرہ لے لینے میں تو کوئی حرج نہیں مگر تجارت کے طور پر اس وقت زمین یا مکان مناسب نہیں۔اسی طرح اِس وقت زیور وغیرہ بنانا بھی فضول۔سونا ستر روپیہ تولہ سے بھی بڑھ چکا ہے بلکہ اگر کسی کے پاس سونا ہو تو اس وقت بیچ دینا چاہئے جنگ کے بعد پھر جب سستا ہوگا تو لے لیں۔یہ سونا خریدنے کا نہیں بلکہ فروخت کرنے کا وقت ہے اس طرح جہاں تک ممکن ہو شادی بیاہ ملتوی کر دو اور اگر کرنا ہی پڑے تو لڑکے لڑکیوں سے کہا جائے کہ نقد روپیہ لے لو۔میری ایک عزیزہ تھی میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اس کی شادی پر اسے تحفہ دوں گا اب اس کی شادی کا موقع آیا تو میں نے کہا کہ زیور وغیرہ بنوا کر میں روپیہ ضائع نہیں کرنا چاہتا میں تمہارے خاندان کے کسی بزرگ کے سپر د روپیہ کر دیتا ہوں جنگ کے بعد جو ہے۔