انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 460

انوار العلوم جلد ۱۶ زیور چاہو بنوا لینا۔بعض اہم اور ضروری امور ایک اور بات یاد رکھو آج تجارت میں خاص نفع ہے ہوشیار زمیندار یا غیر زمیندار گاؤں میں ڈ کا نیں نکال لیں آجکل تجارت میں گھاٹے کا احتمال بہت کم ہے آجکل نفع ہی نفع ہے، ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے گھٹتی نہیں آج ایک چیز پانچ روپیہ میں ملتی ہے تو کل اس کی قیمت چھ روپیہ ہو جاتی ہے۔اگر کوئی اپنی بیوقوفی سے نقصان اُٹھا لے تو اور بات ہے ورنہ آجکل تجارت میں خسارہ کا احتمال بہت ہی کم ہے یہ فائدہ اُٹھانے کا وقت ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔اب میں جنگ کی طرف آتا ہوں بظاہر جنگ کے حالات میں کچھ جنگ کی صورت حالات تبدیلی ہوگئی ہے اور بعض لوگ خیال کرنے لگے ہیں کہ فتح ہونے لگی ہے مگر جنگ میں ابھی ایسی تبدیلی کوئی نہیں ہوئی کہ ظاہری سامانوں پر نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکے کہ آخری فتح ضرور اتحادیوں کی ہی ہوگی۔ابھی تاریک دن باقی ہیں اس لئے مطمئن ہو کر بیٹھ جانا صحیح نہیں اگر لوگ اطمینان محسوس کر لیں تو پھر کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور لوگ بھی اس جنگ میں مدد دے رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ انگریزوں کی فتح ہو اور ہماری جماعت بھی کوشش کر رہی ہے۔دوسرے لوگ تو ذاتی لالچ اور نفع کے لئے کوشش کرتے ہیں کسی کو یہ لالچ ہے کہ میرالڑکا یا فلاں عزیز تحصیلدار ہو جائے گا، تھانیدار ہو جائے گا یا اسے کوئی بڑا عہدہ مل جائے گا ، بڑے سے بڑا آدمی بھی ذاتی نفع کے خیال سے کوشش کر رہا ہے مگر ہماری جماعت جو خدمت کرتی ہے وہ اپنے اصول کے لحاظ سے کرتی ہے کسی طمع اور لالچ کی وجہ سے نہیں۔ممکن ہے بعض اور تعلیم یافتہ افراد بھی اصول کے لحاظ سے کرتے ہوں مگر جماعتی لحاظ سے ہمارے سوا اور کوئی ایسا نہیں کرتا۔اور ایسے لوگ جو اصول کے لئے کوشش کرتے ہوں اور سوچ سمجھ کر کرتے ہوں وہ اگر مطمئن ہو جائیں کہ اب فتح ہونے لگی ہے تو اُن میں ضرور شستی آجاتی ہے کیونکہ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب کام ختم ہونے کو ہے۔اس لئے ہمارے دوستوں کو خیال رکھنا چاہئے کہ ابھی اس جنگ کے تاریک پہلو موجود ہیں۔روس کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ جرمنوں کو اب شکست دے رہا اور بڑھتا جا رہا ہے۔بے شک وہ بڑھا بھی ہے مگر واقف کا رلوگ جانتے ہیں کہ اب تک وہ صرف اُنہی علاقوں میں بڑھ سکا ہے جن میں جرمنی کہتا ہے کہ وہ بڑھ لے۔لیکن جہاں جرمنی نے اب قبضہ رکھنا چاہا وہاں سے روس اُسے پیچھے نہیں ہٹا سکا اور کسی ایسی جگہ کو نہیں لے سکا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابھی روس کا پہلو اتنا زبردست نہیں جتنا عام طور پر خیال کیا جانے لگا ہے اور جرمنی کا