انوارالعلوم (جلد 16) — Page 458
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان چیزوں کا خیال جانے دیں اور گر شکر استعمال کریں بنگال سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں چینی ایک روپیہ سیر ہوگئی ہے یہ کتنا ظلم ہے میں نے تو اب نمکین چائے کا استعمال شروع کر دیا ہے جو لوگ دودھ استعمال کرتے ہیں وہ بھی اگر نمک ڈال کر پئیں تو دیکھیں گے کہ نمک سے بھی دودھ بہت لذیذ ہو جاتا ہے بے شک نمک بھی مہنگا ہو چکا ہے مگر وہ تھوڑا سا استعمال کرنا پڑتا ہے۔چند سالوں ہی کی بات ہے اتنے عرصہ کے لئے کھانڈ اور مصری وغیرہ کا استعمال ترک کردو۔زمینداروں کو چاہئے کہ لگان وغیرہ ادا کرنے کے لئے بھی گڑ شکر فروخت نہ کریں بلکہ میں کہوں گا جن کے پاس ہوں وہ زیور بیچ کر لگان ادا کریں اور گر شکر جمع کریں یہ صرف سال دوسال کی بات ہے گزر جائے گی اس وقت پھر مصری اور کھانڈ وغیرہ استعمال کر لینا في انحال چھوڑ دو۔آجکل برتنوں وغیرہ کی بہت تکلیف ہے برتن بہت مٹی کے برتنوں کے استعمال کی ہدایت مہنگے ہو چکے ہیں جو برتن پہلے ۴ یا۵ آنہ میں قلعی ہو جاتا تھا اب روپیہ ڈیڑھ روپیہ میں ہوتا ہے اس لئے چاہئے کہ لوگ مٹی کے برتنوں کا استعمال شروع کردیں۔ہمارے باپ دادا قریباً سات ہزار سال تک مٹی کے برتن ہی استعمال کرتے رہے ہیں اور اگر ہم کریں تو کیا حرج ہوگا اور ہم کیوں مٹی کے برتنوں میں کھا پی نہیں سکتے۔عورتیں بعض اوقات اعتراض کیا کرتی ہیں کہ فلاں کھانامٹی کے برتن میں نہیں پکتا مگر میں کہتا ہوں ایسا کھانا نہ پکاؤ۔مٹی کے برتن بھی بہت اچھے اچھے بنتے ہیں ملتان کے علاقہ میں مٹی کی ہنڈیاں نہایت اعلیٰ تیار ہوتی ہیں چائے پینے کا چینی کا سیٹ اب ۱۲ ۱۳ روپیہ میں ملتا ہے۔اس کی بجائے بھی مٹی کا سیٹ استعمال کرنا چاہئے۔میرے پاس ایک مٹی کا سیٹ ہے اس پر بہت خوبصورت روغن کیا ہوا ہے اور پالم پور کے سفر میں میں وہی استعمال کرتا رہا ہوں تو دوستوں کو چاہئے کہ مٹی کے برتن استعمال کریں۔چینی کے برتن تو بہت گراں ہو چکے ہیں معمولی قسم کا سیٹ جو پہلے ڈیڑھ دو روپیہ میں آجاتا تھا اب ۱۲ ۱۳ روپیہ میں ملتا ہے۔گویا کو گنا قیمت بڑھ چکی ہے اور پھر یہ چینی کے برتن ٹوٹ بڑی جلدی جاتے ہیں اور اس طرح نقصان بہت ہوتا ہے۔مٹی کا برتن اگر ٹوٹ بھی جائے تو اتنا نقصان نہیں ہوتا غالب نے کہا ہے کہ۔اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا ساغر جم سے میرا جام سفال اچھا ہے