انوارالعلوم (جلد 16) — Page 348
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ سند رسنگھا! پکوڑے کھائیں گا ؟ سند رسنگھا! پکوڑے کھائیں گا ؟ حالانکہ سند رسنگھ اُس وقت گھر میں بیٹھا ہوا پچھلکے کھا رہا ہو گا۔دراصل وہ شراب کے نشہ میں تھا اور اس نشہ کی حالت میں یہی سمجھ رہا تھا کہ میں اُس کے ساتھ چل رہا ہوں مگر شراب کے نشہ کی وجہ سے اُس سے چلا نہیں جاتا تھا اور عقل پر ایسا پردہ پڑا ہوا تھا کہ وہیں دیوار کے ساتھ بیٹھا ہوا وہ سند رسنگھ کو پکوڑوں کی دعوت دیتا چلا جاتا تھا۔تو شراب کی کثرت کی وجہ سے ٹانگوں کی طاقت جاتی رہتی ہے ،عقل زائل ہو جاتی ہے ، قوی کو نقصان پہنچتا ہے اور انسان بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ شراب پلا کر ہم کہیں گے۔سَلْ سَبِيلًا۔اب تمہاری سب کمزوری رفع ہو گئی ہے تم اپنے راستہ پر دوڑ پڑو۔دوسرے معنے اس کے سَأَلَ يَسْأَلُ کے بھی ہو سکتے ہیں ، یعنی سوال کر ، پوچھ ، دریافت کر۔اس کا امر بھی مسل ہی بنتا ہے۔یعنی دنیا میں شراب پینے والا جب بہت سی شراب پی لیتا ہے تو اُس کی عقل ماری جاتی ہے ، مگر وہ شراب ایسی ہوگی کہ جب وہ پلائی جائے گی تو اُسے کہا جائے گا کہ اب تیری عقل تیز ہو گئی ہے تو روحانیت اور معرفت کی ہم سے نئی نئی باتیں پوچھ۔گویا اُس شراب سے ایک طرف قوت عملیہ بڑھ جائے گی اور دوسری طرف قوتِ عقلیہ بڑھ جائے گی اور وہ خدا تعالیٰ سے کہے گا کہ خدایا! مجھے اور روحانی علوم دیئے جائیں اور اس کے بدن میں ایسی طاقت آجائے گی کہ جس طرح دریا اپنی روانی میں بہتا ہے اسی طرح وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بہنے لگ جائے گا۔پھل اور گوشت (۴) چوتھی بات جو دنیوی مینا بازاروں میں پائی جاتی ہے وہ کھانے کی چیزیں ہیں، میں نے اس جنت میں دیکھا تو اس میں بھی یہ سب سامان موجود تھے چنانچہ فرماتا ہے وَفَا كِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَ - وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ٥ کہ جنت میں کھانے کو پھل ملیں گے جو بھی وہ پسند کریں گے۔یہاں ہم بعض دفعہ بعض پھلوں کو پسند کرتے ہیں مگر ہمیں ملتے نہیں۔ہمارا جی چاہتا ہے ہمیں انگور کھانے کوملیں مگر جب بازار سے دریافت کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے تمہاری عقل ماری گئی ہے یہ بھی کوئی انگور کا موسم ہے۔رنگترے کو جی چاہے تو دکاندر کہ دیگا ، آجکل تو رنگترے کا موسم ہی نہیں ، کیلا موجود ہے یہ لے لیں۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہاں یہ سوال نہیں ہو گا کہ انگوروں کا موسم نہیں یا اناروں کا موسم نہیں یا کیلے کا موسم نہیں یا سر دے کا موسم نہیں ، وہاں جو بھی پھل انسان چاہے گا اُسے فوراً مل جائے گا۔اسی طرح جس پرندے کا گوشت وہ چاہیں گے اُس کا گوشت انہیں دیا جائے گا۔