انوارالعلوم (جلد 16) — Page 347
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) تعریف کرتے ہیں۔ذوق کہتا ہے وہ نشہ نہیں جسے ترشی اُتار دے مگر جنت میں جو شراب دی جائے گی اُس میں نہ نشہ ہوگا نہ وہ سڑی ہوئی ہوگی اور نہ ئے گی اس یہ صحت اور عقل کو نقصان پہنچائے گی۔اسی طرح فرماتا ہے اس شراب میں ایک چشمہ کا پانی ملایا جائے گا جس کا نام سَلْسَبِیلا ۵۵ ہو گا سبیل کے معنے راستہ کے ہیں اور سال * کے معنے اگر اس کو سالَ يَسِيلُ سے سمجھا جائے تو یہ ہوں گے کہ چل اپنے راستہ پر۔یا دوڑ پڑ۔یعنی دنیاوی شراب پی کر تو انسان لڑکھڑا جاتے ہیں مگر وہ شراب ایسی ہو گی کہ اُسے پی کر انسان دوڑنے لگے گا اور اُس کو پیتے ہی کہا جائے گا کہ اب سب کمزوری رفع ہوگئی چل اپنے راستہ پر۔یہ فرق بھی بتا رہا ہے کہ یہ شراب مادی نہیں ، ورنہ دنیا کی شراب پی کر انسان کے پاؤں لڑکھڑا جاتے ہیں اور وہ کبھی بھی دوڑ نہیں سکتا۔مادی شراب کے نشہ کی کیفیت مجھے ایک لطیفہ یاد ہے ، قادیان میں جہاں آجکل صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں اور جہاں سے ایک گلی ہمارے مکانوں کے نیچے سے گزرتی ہے، وہاں ایک دن میں اپنے مکان کے صحن میں ٹہلتا ہوا مضمون لکھ رہا تھا کہ نیچے گلی سے مجھے دو آدمیوں کی آواز آئی۔اُن میں سے ایک تو گھوڑے پر سوار تھا اور دوسرا پیدل تھا۔جو پیدل تھا وہ دوسرے شخص سے کہہ رہا تھا کہ سند رسنگھا! پکوڑے کھائیں گا ؟ میں نے سمجھا کہ آپس میں باتیں ہورہی ہیں اور ایک شخص دوسرے سے پوچھ رہا ہے کہ تم پکوڑے کھاؤ گے؟ مگر تھوڑی دیر کے بعد مجھے پھر آواز آئی کہ سند رسنگھا پکوڑے کھائیں گا ؟ اور وہ شخص جو گھوڑے پر سوار تھا برابر آگے بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ وہ اُس موڑ پر جا پہنچا جو مسجد مبارک کی طرف جاتا ہے مگر وہ برابر یہی کہتا چلا گیا کہ سند رسنگھا! پکوڑے کھائیں گا ؟ سند رسنگھا! پکوڑے کھائیں گا ؟ آخر گھوڑے کے قدموں کی آواز غائب ہو گئی اور آدھ گھنٹہ اس پر گزر گیا مگر میں نے دیکھا وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہیں گلی میں بیٹھا ہوا یہ کہتا چلا جاتا تھا کہ سَالَ يَسِيلُ سے قاعدہ کے ماتحت توسل آنا چاہئے لیکن الفاظ میں دوسرے لفظ کی حرکت کے مناسب پہلے لفظ پر بھی حرکت فتحہ دیدی جاتی ہے۔لِكَوْنِهِ أَخَقُ عَلَى النِّسَانِ وَ اَسْهَلُ عَلَى القَارِی۔کیونکہ اس سے لفظ کا ثقل دُور ہو جاتا اور بولنے میں آسانی ہوتی ہے۔