انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 349

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) پھر فرماتا ہے وَآمُدَدْنَهُمْ بِفَا كِهَةٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ٥ کہ انہیں کھانے کے لئے پھل ملیں گے اور گوشت بھی جس قسم کا وہ چاہیں گے۔یہ شرط نہیں کہ انہیں پرندوں کا ہی گوشت ملے گا بلکہ اگر وہ مچھلی چاہیں گے تو مچھلی ملے گی ، دنبے کا گوشت چاہیں گے تو دُنبے کا گوشت مل جائے گا۔جنتی پھلوں کی دلچسپ خصوصیات اسی طرح فرماتا ہے۔وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَا لُهَا وَذُلِلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيْلًا ٥٠ که ۵۸ جنت میں مؤمنوں کو جو پھل ملیں گے، اُن کی یہ ایک عجیب خصوصیت ہو گی کہ وہ پھل بہت ہی جُھکے ہوئے ہوں گے اور جب اُن کا جی چاہے گا انہیں ہاتھ سے توڑلیں گے، یہاں پھل اُتارنے کے لئے لوگوں کو درختوں پر چڑھنا پڑتا ہے مگر فرمایا وہاں ایسا نہیں ہو گا وہاں پھل اس قدر جھکے ہوئے ہونگے کہ جس کا جی چاہے گا ہاتھ سے توڑ لے گا۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ لَّا مَقْطُوعَةٍ وَّلَا مَمْنُوعَةٍ ۵۹ کہ انہیں وہاں کھانے کے لئے کثرت سے پھل ملیں گے اور وہ پھل ایسے ہوں گے، جو کبھی مقطوعہ نہیں ہوں گے یعنی کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ کہہ دیا جائے آج رنگترے نہیں ملیں گے، صرف شہتوت ملیں گے۔وَلَا مَمْنُوعَہ اور نہ وہ ممنوع ہوں گے۔یعنی یہ ایک عجیب خاصیت اُن میں ہوگی کہ کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ وہ انسان کو بیمار کر دیں۔دنیا میں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کہہ دیتا ہے تمہارے لئے کیلا کھانا منع ہے یا تم صرف انار کا پانی پی سکتے ہو اور کوئی پھل نہیں کھا سکتے ، مگر جنت میں جو پھل ملیں گے انہیں کوئی بُرا کہنے والا نہیں ہوگا کیونکہ وہ بیماریاں پیدا کرنے والے نہیں ہوں گے بلکہ تندرستی اور صحت پیدا کرنے والے ہونگے پس وَلَا مَمْنُوعَةٍ کے یہ معنے ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا کہ ان پھلوں کے کھانے سے بد ہضمی ہو خواہ وہ کس قدر کھا لئے جائیں انسان کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔دنیا میں انسان ذرا بے احتیاطی کرے تو بیمار ہو جاتا ہے مگر وہاں ایسا نہیں ہو گا۔لیکچر دیتے وقت میری عادت ہے کہ میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد گرم چائے کا ایک گھونٹ لے لیتا ہوں چنانچہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد میرے آگے چائے کی پیالیاں رکھی جاتی ہیں اور اُن میں سے اکثر بغیر چکھے کے اُٹھالی جاتی ہیں کیونکہ میرے سامنے پڑی پڑی ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ میں ایک گھونٹ پی بھی لیتا ہوں ، مگر اس تمام عرصہ میں تمہیں چالیس دفعہ پیالیاں میرے سامنے سے گزر جاتی ہیں اور جو ناواقف ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شاید میں