انوارالعلوم (جلد 16) — Page 573
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو علاج کا سامان مہیا کیا جائے اور یہ کام ٹیکسوں سے نہیں ہو سکتا اسی طرح ہو سکتا ہے کہ جائدادیں لی جائیں اور اس ضرورت پر خرچ کی جائیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیا پڑی اور کیا پڑی کا شور با تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تم ایسے دعوے کرو اور اس قسم کی موہوم امیدوں کو جامعہ عمل پہنا سکو گر یہ طیبہ بھی درست نہیں اس لئے کہ جب ہم یہ بات پیش کرتے ہیں تو اس لئے پیش کرتے ہیں کہ ہم اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ ہماری جماعت کا دنیا کے تمام ممالک میں پھیل جانا مقدر ہے۔پس جبکہ ہم خدا تعالیٰ کے الہامات اور اس کے وعدوں کے مطابق یہ یقین رکھتے ہیں کہ آج سے پچاس یا ساٹھ یا سو سال کے بعد بہر حال دنیا پر احمدیت کا غلبہ ہو جائے گا تو ہمیں اس بات پر بھی کامل یقین ہے کہ یہ نظام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمایا ہے ایک دن قائم ہو کر رہے گا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں۔یقینی طور پر وصیت کے ذریعہ پیش کردہ نظام کا قیام بعض لوگ یہ بھی کہ دیتے یہ ہیں کہ یہ نظام نہ معلوم کب قائم ہو گا جماعت کی ترقی تو نہایت آہستہ آہستہ ہو رہی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ کبھی ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جاتی جو عمارت بے بنیاد ہو وہ بہت جلد گر جاتی ہے یہ جلد بنائے جانے والے نظام جلد گر جائیں گے نظام وہی قائم ہو گا جو ہر کس و ناکس کی دلی خوشنودی کے ساتھ قائم کیا جائے گا۔گھاس آج نکلتا اور کل سوکھ جاتا ہے لیکن پھل دار درخت دیر میں تیار ہوتا اور پھر صدیوں کھڑا رہتا ہے۔پس آئندہ جوں جوں ہماری جماعت بڑھتی چلی جائے گی وصیت کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں جس نظام کو قائم کیا ہے وہ بھی بڑھتا چلا جائے گا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی کتاب الوصية میں تحریر فرمایا ہے کہ :- یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دور از قیاس باتیں ہیں بلکہ یہ اس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیونکر ہوں گے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہو گی جو ایمانداری کے جوش سے۔مردانہ کام دکھلائے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپر دایسے مال کئے جائیں وہ کثرتِ مال کو دیکھ کر ٹھو کر نہ کھاویں اور دنیا سے پیار