انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 572

۹۹ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو آمدنیوں کی وصیت کی بھی اجازت دے دی اور اس طرح جائداد اور آمد دونوں کے مقررہ حصے قومی فنڈ میں جمع ہونے شروع ہو گئے۔نظام ٹو کی بنیاد۱۹۰۵ء میں قادیان میں رکھی گئی غرض نظام نو کی بنیاد ۱۹۱۰ ء میں روس میں نہیں رکھی گئی نہ وہ آئندہ کسی سال میں موجودہ جنگ کے بعد یورپ میں رکھی جائے گی بلکہ دنیا کو آرام دینے والے ہر فرد بشر کی زندگی کو آسودہ بنانے والے اور ساتھ ہی دین کی حفاظت کرنے والے نظام کو کی بنیاد ۱۹۰۵ء میں قادیان میں رکھی جا چکی ہے اب دنیا کو کسی نظام نو کی ضرورت نہیں ہے اب نظام نو کا شور مچانا ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں۔گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر جو کام ہونا تھا وہ ہو چکا اب یورپ کے مدبر صرف لکیریں پیٹ رہے ہیں۔اسلام اور احمدیت کا نظام کو وہ ہے جس کی بنیاد جبر پر نہیں بلکہ محبت اور پیار پر ہے۔اس میں انسانی حریت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے، اس میں افراد کی دماغی ترقی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور اس میں انفرادیت اور عاملیت جیسے لطیف جذبات کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔وصیتی اموال کے خرچ کرنے کے مختلف مواقع میں بتا چکا ہوں کہ وصیت کے متعلق یہ خیال کرنا غلط ہے کہ اس کا روپیہ صرف تبلیغ اسلام پر خرچ کیا جا سکتا ہے ” الوصیۃ“ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس روپیہ سے اور کئی مقاصد کو بھی پورا کیا جائے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ہر ایک امر جو مصالح اشاعت اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام امور ان اموال سے انجام پذیر ہونگے یعنی آئندہ زمانہ میں اشاعت اسلام کی ایسی مصلحتیں ظاہر ہوں گی یعنی اسلام کو عملی جامہ پہنا کر اس کی خوبیوں کے اظہار کے مواقع نکلیں گے کہ ان پر وصیت کے روپیہ کو خرچ کرنا جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہو گا۔پھر یتیموں اور مسکینوں کے الفاظ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعمال فرمائے ہیں اور بتایا ہے کہ اس روپیہ پر محتاجوں کا حق ہے۔پس در حقیقت ان الفاظ میں اسی نظام کی طرف اشارہ ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے کہ ہر فرد بشر کے لئے کھانا مہیا کیا جائے ، ہر فرد بشر کے لئے کپڑا مہیا کیا جائے ، ہر فرد بشر کے لئے مکان مہیا کیا جائے ، ہر فرد بشر کے لئے تعلیم اور