انوارالعلوم (جلد 16) — Page 574
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام نو نہ کریں۔سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں ہاں جائز ہوگا کہ جن کا کچھ گزارہ نہ ہو ان کو بطور مد دخرچ اس میں سے دیا جائے۔وصیت کے ذریعہ جمع ہونے والے یعنی مجھے اس بات کا خیال نہیں کہ وصیت کے نتیجہ میں اتنے روپے کہاں سے آئیں گے روپیہ کی حیرت انگیز بہتات بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ نہیں لوگ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھوکر نہ کھا جائیں۔گویا تم تو یہ کہتے ہو - کہ ساری دنیا کے غریبوں کا انتظام کس طرح کرو گے اور وہ مال کہاں سے آئے گا جس سے ان کی ضروریات پوری کی جائیں گی مگر مجھے اس بات کا کوئی فکر نہیں کہ یہ مال کہاں سے آئے گا یہ مال آئے گا اور ضرور آئے گا مجھے تو فکر یہ ہے کہ کہیں کثرت مال کو دیکھ کر دنیا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی نہ رہ جائیں اور وہ لوگ جن کے سپرد یہ اموال ہوں وہ دنیا سے پیار نہ کرنے لگ جائیں اور لالچ کی وجہ سے ان مذات میں روپیہ خرچ نہ کریں جن مذات کے لئے یہ روپیہ اکٹھا کیا جائے گا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ سوال خود ہی اٹھایا ہے اور پھر خود ہی اس کا جواب دیا ہے کہ لوگ یہ خیال نہ کریں کہ اتنے خزانے کہاں سے آئیں گے۔آئیں گے اور ضرور آئیں گے مجھے اگر ڈر ہے تو یہ کہ کہیں کثرتِ مال کو دیکھ کر لوگ دنیا سے پیار نہ کر نے لگ جائیں کیونکہ روپیہ اکٹھا ہو گا اور اتنا اربوں ارب اور اربوں ارب اکٹھا ہو گا کہ اتنا مال نہ امریکہ نے کبھی دیکھا ہو گا نہ روس نے کبھی دیکھا ہوگا ، نہ انگلستان نے کبھی دیکھا ہوگا نہ جرمنی، اٹلی اور جاپان نے کبھی دیکھا ہوگا بلکہ ساری حکومتوں نے مل کر بھی اتنا روپیہ کبھی جمع نہیں کیا ہو گا جتنا روپیہ اس ذریعہ سے اکٹھا ہو گا، پس چونکہ اس ذریعہ سے اس قدر دولت اکٹھی ہوگی کہ اس قدر دولت دُنیا کی آنکھ نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی اِس لئے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں لوگوں کے دلوں میں بد دیانتی پیدا نہ ہو جائے۔پس تم اس بات کا فکر نہ کرو کہ یہ نظام کس طرح قائم ہو گا تم یہ فکر کرو کہ اس کو صحیح استعمال کرنے کا اپنے آپ کو اہل بناؤ۔دُنیا کی جائداد میں تمہارے ہاتھ میں ضرور آئیں گی مگر تم کو اپنے نفوس کی ایسی اصلاح کرنی چاہئے کہ وہ جائداد میں تمہارے ہاتھ سے دنیا کے فائدہ کے لئے صحیح طور پر خرچ کی جائیں۔