انوارالعلوم (جلد 16) — Page 226
انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب ا ہیں اور بڑے بڑے امیر ان کو خریدتے ہیں۔مگر ناقص آم میلی اور گندی ٹوکری میں پڑے ہوتے ہیں اور پیسے پیسے وٹی پیسے پیسے وٹی سے کہہ کر دکاندار آواز دے رہا ہوتا ہے اور پھر بھی انہیں کوئی نہیں خریدتا۔پھر ایک آم ایسا ہوتا ہے کہ پاس سے گزرنے پر سر سے لے کر پیر تک اس کی خوشبو برقی رو کی طرح اثر کر جاتی ہے۔اور ایک آم ایسا ہوتا ہے کہ اسے دیکھنے تک کو جی نہیں چاہتا۔یہی حال دوسرے پھلوں کا ہے۔ایک وقت خربوزے روپے روپے وٹی تک سکتے ہیں اور دوسرے وقت ان میں کیڑے پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔تو فرمایا تم ہمیشہ کلمہ کلمہ پکارتے ہو تمہیں سوچنا چاہئے کہ کیا کلمہ پڑھتے ہو؟ کلمہ طیبہ تو ابو بکڑ بھی پڑھتا تھا، عمرہ بھی پڑھتا تھا، عثمان بھی پڑھتا تھا، علی بھی پڑھتا تھا۔اگر تم کہو کہ تم بھی وہی کلمہ پڑھتے ہو جو ابو بکر اور عمر پڑھتے تھے تو یہ درست نہیں کیونکہ ان کا کلمہ کلمہ طیبہ تھا۔اور طیبہ کے معنے عربی زبان میں خوش شکل ، خوشبودار ، لذیذ اور شیریں کے ہیں۔طبیہ کے اور بھی معنے ہیں لیکن یہ چاروں معنے خاص طور پر طنیب میں پائے جاتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ جو چیز خوش شکل ہو خوشبو دار بھی ہو۔انسانوں میں کئی ایسے ہوتے ہیں جن کی شکل اچھی ہوتی ہے مگر انہیں بغل گند ہوتا ہے اور کئی لوگوں سے بدبو تو نہیں آتی مگر شکل دیکھ کر کرا بہت آتی ہے، پھر کئی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو کوئی بیماری تو نہیں ہوتی مگر وہ جاہل اور اُجڑ ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو خو بصورت بھی ہوتے ہیں، خوشبو بھی اُن میں سے آتی ہے، عالم بھی ہوتے ہیں مگر شیریں نہیں ہوتے یعنی اُن کی باتوں میں مزہ نہیں آتا۔پس طیب وہ ہے جس میں یہ چاروں باتیں پائی جائیں یعنی خوش شکل بھی ہو ، خوشبو دار بھی ہو، خوش ذائقہ بھی ہو، اور شیریں بھی ہو۔پس کلمہ طیبہ پر ایمان لانے والے کو سوچنا چاہئے کہ کیا اس میں یہ چاروں باتیں پائی جاتی ہیں۔طیبہ کے پہلے معنے خوش شکل کے ہیں۔اب تم سوچو کہ کیا تمہارا ایمان خوش شکل ہے؟ تم منہ سے تو کہتی ہو کہ ہم احمدی ہیں مگر کیا ظاہر میں بھی تمہاری شکل احمد یوں والی ہے؟ کیا اگر آم کی شکل بیر جیسی ہو تو لوگ اسے پسند کریں گے؟ اسی طرح جب تک تمہاری نمازیں احمدیوں والی نہ ہوں، تمہارے روزے احمد یوں والے نہ ہوں ، تمہاری زکوۃ احمد یوں والی نہ ہو، تمہارا حج احمد یوں والا نہ ہو تم کس طرح کہہ سکتی ہو کہ ہم نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا۔کتنا ہی اچھا آم ہو لیکن اگر وہ داغدار ہو یا پچکا ہوا ہو تو لوگ اسے نہیں خریدتے۔اسی طرح اگر تم صرف اس بات پر خوش ہو جاؤ کہ ہم نے کلمہ طیبہ کہہ لیا تو ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہماری زکوۃ ، ہمارا حج اور ہمارے صدقے خود بخود اچھے ہو جائیں گے تو یہ درست نہیں۔جس طرح داغدار آم کو کوئی شخص نہیں خرید تا اسی طرح