انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 225

انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطا کے پانی کے بغیر پھل نہیں دیتا۔جس طرح درخت بونے کے بعد اگر اسے پانی نہ دیا جائے تو وہ خراب ہو جاتا ہے لیکن اگر اسے پانی ملتا رہے تو وہ عمدہ پھل دیتا ہے اور اس کی عمر بھی لمبی ہوتی ہے۔اسی طرح خالی ایمان پر خوش نہ ہو جاؤ بلکہ مجھ لو کہ شجرہ طیبہ پانی چاہتا ہے جب تک اسے اعمالِ صالحہ کا پانی نہ ملے گا وہ شجرۂ طیبہ نہ بن سکے گا۔پس صرف کلمہ پڑھ کر تمہیں خوش نہیں ہو جانا چاہئے۔جب تک تم لَا إِلهَ إِلَّا الله کے درخت کو اعمالِ صالحہ کا پانی نہ دوگی تمہارا درخت پھل نہیں لائے گا بلکہ خشک ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح درخت کئی قسم کے ہوتے ہیں اسی طرح لَا إِلهَ إِلَّا الله بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔کوئی اچھے ہوتے ہیں اور کوئی سڑے ہوئے ہوتے ہیں۔قرآن شریف میں سڑے ہوئے کلمہ کی مثال اس طرح دی گئی ہے کہ اِذَا جَاءَكَ الْمُسْفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَ اللهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَكَذِبُونَ یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تیرے پاس منافق آتے ہیں اور کہتے ہیں نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ کہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ خدا موجود ہے اور تو اس کا رسول ہے مگر اس پر بجائے اس کے کہ خدا خوش ہو کہ آخر انہوں نے صداقت کا اقرار کر لیا، فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے۔وہ کہتے ہیں ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے۔اب اگر اللہ تعالیٰ کہے اور وہ نہ کہیں تو جھوٹ ہو۔مگر جب انہوں نے بھی کہہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی گواہی دیدی کہ تو ہمارا رسول ہے تو پھر کہنا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ بڑے سچے ہیں کہ انہوں نے وہ بات کہی جو خدا نے کہی۔مگر فرماتا ہے یہ منافق بڑے جھوٹے ہیں۔باوجود اس کے کہ تو اللہ کا رسول ہے اور باوجود اس کے کہ انہوں نے کہا کہ تو اس کا رسول ہے پھر بھی وہ جھوٹے ہیں اور ان کا کلمہ، کلمہ طیبہ نہیں بلکہ کلمہ خبیثہ ہے۔کیونکہ وہ دل سے نہیں کہہ رہے بلکہ منافقت سے کہہ رہے ہیں۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو گو سچے دل سے ایمان لاتے ہیں مگر ان کا ایمان ناقص ہوتا ہے۔ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی شخص آم تو بوئے مگر اُسے پانی نہ دے اور نہ اس کی نگرانی کرے نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ہوگا تو آم ہی مگر پھل ناقص دے گا، کھٹا دے گا اور تھوڑا دے گا۔ایسے درخت کے آموں کو گدھے بھی سُونگھ کر پھینک دیتے ہیں اور جب بازار میں جاتے ہیں تو ردی کی ٹوکری میں پڑے رہتے ہیں اور کوئی ان کو نہیں خریدتا۔اس کے مقابلہ میں اعلیٰ قسم کے آموں کو کاغذ کا لباس پہنایا جاتا ہے اور اوپر لکھا جاتا ہے کہ فلاں قسم کا آم۔اور رئیسوں کے آرڈر پر آرڈر آتے