انوارالعلوم (جلد 16) — Page 227
انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب تمہاری نمازیں اور تمہارے روزے بھی قبول نہیں ہو سکتے۔صرف اسی صورت میں یہ عبادتیں قبول ہو سکتی ہیں جب وہ انہیں شرائط کے ساتھ ادا کی جائیں جن شرائط کے ساتھ ادا کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے۔دوسری چیز کلمہ کا خوشبو دار ہوتا ہے۔جو چیز انسان خریدتا ہے اس کے متعلق یہ بھی دیکھ لیتا ہے کہ آیا اس کی خوشبو ا چھی ہے یا نہیں۔خربوزے ہوں تو ان کی خوشبو سونگھتا ہے اور چاہتا ہے کہ خربوزوں سے اچھی خوشبو آئے۔یہی حال باقی پھلوں کا ہے۔آم جتنا اچھا ہوگا اتنی ہی اس کی خوشبو اچھی ہوگی۔اسی طرح سیب، انار، انگور اور کیلا وغیرہ کی لوگ شکل بھی دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی خوشبو بھی سونگھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم ایمان لائے ہو تو تمہارے ایمان کے اندر خوشبو بھی ہونی چاہئے۔یعنی تمہارے ارد گرد کے ہمسائے تمہیں دیکھیں تو تمہاری نیکیوں کی خوشبو ان کو آ جائے اور وہ کہہ اُٹھیں کہ واقعی یہ مذہب اچھا ہے۔پہلے تو لوگ شکل دیکھیں گے کہ تمہاری نمازیں مسلمانوں والی ہیں یا نہیں۔فرض کرو ایک عورت احمدی کہلاتی ہے مگر نماز نہیں پڑھتی تو اس کی ہمسایہ عورت کو یقین ہو جائے گا کہ ہمارا مولوی ٹھیک کہتا تھا کہ احمدی جماعت کی عورتیں نماز نہیں پڑھتیں یا احمدی نماز کو جائز نہیں سمجھتے۔کیونکہ غیر احمدی مولویوں نے ان کو یہی بتایا ہوتا ہے کہ احمدیوں کا نماز روزہ الگ ہے۔پس ایک غیر احمدی عورت نماز چھوڑ کر صرف اپنے لئے دوزخ مول لیتی ہے لیکن ایک احمدی عورت نماز نہ پڑھ کر صرف اپنے لئے نہیں بلکہ ان دوسری پچاس عورتوں کے لئے بھی دوزخ مول لیتی ہے جو اُس کو دیکھتی ہیں۔تو فرمایا تم شجرہ طیبہ بنوں۔تم وہ درخت بنو جو نہ صرف خوش شکل ہو بلکہ خوشبو دار بھی ہو۔تم جس محلہ میں جاؤ وہاں نمازیں پڑھو، صدقات دو، خیرات کرو اور اس قدر نیکیوں میں حصہ لو کہ سب کہیں کہ معلوم نہیں کون آ گئی ہے جو اس قدر نمازیں پڑھتی اور خیرات کرتی ہے۔پھر جب وہ تمہارے پاس آئیں گی تو تم دیکھو گی کہ وہ اپنے مولوی کو وہاں سے سینکڑوں گالیاں دیتی ہوئی اُٹھیں گی۔کیونکہ تمہاری خوشبو اُن کو احمدیت کے چمن کی طرف کھینچ رہی ہوگی۔پس چاہیئے کہ تمہاری نمازیں ایسی خوشبودار ہوں ، صدقہ و خیرات ایسا خوشبودار ہو کہ خود بخود دوسرے لوگ متاثر ہوتے چلے جائیں۔جب تمہارے اندر یہ خوشبو پیدا ہو جائے گی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ بھاگ بھاگ کر تمہاری طرف آئیں گے اور تم لوگوں کو احمدیت کی طرف کھینچنے کا ذریعہ بن جاؤ گی۔طیبہ کے تیسرے معنے خوش ذائقہ کے ہیں یعنی ایسی چیز جس کا مزا اچھا ہو اور انسان کی