انوارالعلوم (جلد 16) — Page 224
انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب اکثر جانگلیوں کے تھے جو گورنمنٹ نے زبر دستی چھین لئے اور دوسرے لوگوں کو دے دیئے۔جن کی زمینیں تھیں وہ بھوکے مر گئے اور دوسرے لوگ عیش و آرام سے رہنے لگے۔مگر فرمایا بِاِذْنِ رَبِّهَا وہ زمینیں لوگوں کی چھینی ہوئی نہیں ہوں گی بلکہ جائز مال ہوگا جو خدا کی طرف سے ملے گا۔دنیا میں تو کتنے گھر اس لئے برباد ہو گئے کہ ماں باپ نے محنت سے مال جمع کیا مگر ان کی اولادوں نے لغو باتوں میں اسے ضائع کر دیا۔مگر وہاں جو کچھ ملے گا خدا کی طرف سے ملے گا اور اس کی برکت قائم رہے گی۔تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلَامٌ ہمارے ملک میں لوگ کہا کرتے ہیں کہ جتنی لڑائیاں ہوتی ہیں وہ زمین، روپیہ یا عورت کی وجہ سے ہوتی ہیں۔یہاں بھی چونکہ نہروں اور زمینوں کا ذکر تھا اس لئے قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا تھا کہ کیا جنت میں بھی لڑائیاں ہوں گی ؟ اور کیا وہاں جا کر بھی یہی جھگڑا رہے گا کہ ایک جنتی کہے گا میری پہیلی ہے اور دوسرا کہے گا میری ؟ اس لئے فرمایا کہ نہیں ہر آدمی جو جنت میں دوسرے سے ملے گا کہے گا میری طرف سے تم اپنا دل صاف رکھو۔میری طرف سے تم کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور دعا کرے گا کہ تم پر خدا کی طرف سے سلامتی نازل ہو۔پھر فرماتا ہے اَلَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِه تُؤْتِى أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِاِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللهُ الأمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ان آیات کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ جنت میں ایمان لانے والے اور اعمال صالحہ کرنے والے جائیں گے۔اب کہنے کو تو سارے ہی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور جس کو پوچھو وہ کہتا ہے میں خدا کے فضل سے مسلمان ہوں۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے محض زبان سے اپنے آپ کو مؤمن کہہ لینے سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو جاتا۔تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایمان باللہ اور اعمال صالحہ کی مثال اچھے درخت کی سی ہے جس طرح دنیا میں پھل دار درخت توجہ چاہتے ہیں اور کوئی شجرہ طیبہ نہیں پھلتا جب تک کہ اسے پانی نہ ملے اور جب تک اس کی نگرانی نہ کی جائے۔سوائے جنگلی درختوں کے۔اسی طرح صرف منہ سے ایمان اور اعمال صالحہ کا دعوی کرنا ٹھیک نہیں ہوتا۔یہ کبھی نہیں ہوتا کہ جنگلی درختوں میں اعلیٰ قسم کے پھل لگے ہوں۔اعلیٰ قسم کے پھل ہمیشہ اعلیٰ درختوں پر لگتے ہیں اور اعلیٰ درخت انسانی کوشش سے پھل لاتے ہیں۔پس ایمان اور اعمال صالحہ کی مثال شجرہ طیبہ یعنی اعلیٰ قسم کے درختوں کی سے ہے جنگلی درختوں کی نہیں۔اور یہ شجرہ طیبہ اعمال