انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 223

مستورات سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ ے پہلے مرد دو تقریریں سنتے آرہے ہیں اور ہم ایک۔اب ۲۱ سال تک ہم میں بھی ایک زائد تقریر ہو تا برابر ہو جائیں۔مگر میں نے ابھی اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ اس پر غور کیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے موقع دیا تو میں مزید غور کروں گا اور پھر جو فیصلہ ہوگا اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔اس کے بعد میں ان آیات کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مؤمن عورتوں کے متعلق بیان فرمایا ہے کہ ان سب کو جنت میں داخل کیا جائے گا ایسی جنت میں جس کے نیچے نہریں چلتی ہوں گی۔یہاں سرگودھا، گجرات اور لائکپور کی مستورات آئی ہوئی ہوں گی۔وہ نئی آبادیوں میں رہنے کی وجہ سے جانتی ہیں کہ نہر کیا ہوتی ہے اور نہر کے کیا کام ہوتے ہیں لیکن وہ نہریں جو جنت میں چلیں گی سرگودھا اور گجرات کی نہروں سے مختلف ہوں گی۔ان نہروں کی تو باریاں مقرر ہوتی ہیں اور خواہ کسی کا کھیت سُوکھے یا جلے پانی باری پر ہی ملتا ہے۔پھر گورنمنٹ کے بعض ملازم شرارتیں کرتے رہتے ہیں اور بعض دفعہ نہریں کاٹ دیتے ہیں جس سے سارا علاقہ تباہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح زمیندار اگر نہر کاٹ کر پانی لیں تو سال دو سال کے لئے قید کر دیئے جاتے ہیں۔یہ تو دنیا کی نہروں کا حال ہے لیکن اُن نہروں کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ ان باغوں کے ساتھ ہوں گی۔یعنی وہ جنتیوں کے ہاتھ میں ہوں گی کوئی اور ان کا حاکم اور مالک نہیں ہوگا۔وہ جس وقت چاہیں گے پانی ان کو مل جائے گا۔خلِدِينَ فِيهَا اور پھر وہ اس میں بستے چلے جائیں گے۔وہ لوگ جنہوں نے سرگودہا اور لائکپور بسایا وہ آج کہاں ہیں؟ وہ جنہوں نے درخت لگائے بڑی بڑی مصیبتوں کے بعد زمین کی کاشت کی ، ہل چلائے اور تکالیف کا مقابلہ کیا ان میں سے کوئی دو سال زندہ رہا، کوئی چار سال زندہ رہا اور آخر ایک ایک کر کے سب فوت ہو گئے۔وہ اب یہ نہیں جانتے کہ ہماری زمینیں کہاں گئیں اور ہماری اولاد نے کیا پھل کھایا ؟ کئی ایسے ہیں جن کی اولادیں آج شرابیں پی رہی ہیں کئی ایسے ہیں جن کی اولادیں آج جوا کھیل رہی ہیں کئی ایسے ہیں جن کی اولادیں آج سینما میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں گویا ان کی محنتیں اکارت گئیں۔مگر فرما یا خلِدِينَ فِيهَا جنتیوں کی محنتیں ضائع نہیں ہوں گی بلکہ جس نے جو کچھ بویا وہی کچھ کاٹے گا اور پھر کاٹتا ہی چلا جائے گا۔پھر ایک اور فرق دنیا کی نہروں، باغوں اور زمینوں اور اگلے جہان کی زمینوں، باغوں اور نہروں میں یہ ہے کہ یہاں تو کئی لوگوں کے پاس حرام مال ہوتے ہیں۔چنانچہ مربعوں میں سے