انوارالعلوم (جلد 16) — Page 539
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو امریکہ والوں نے قانون بنا دیا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی اور شخص داخل نہ ہو حالانکہ ساؤتھ افریقہ کا فائدہ ساری دنیا کو حاصل ہونا چاہئے اسی طرح امریکہ کا فائدہ ساری دنیا کو حاصل ہونا چاہئے یہ نہیں کہ صرف ساؤتھ افریقہ اور امریکہ والے ہی ان سے فائدہ اُٹھائیں باقی دنیا محروم رہ جائے۔کانوں کی دریافت کے متعلق اسلام کا حکم اسی طرح اسلام نے ان مالدار لوگوں کے ظلم کو بھی رڈ کر دیا ہے جو طبعی وسائل سے کام لے کر دولت جمع کرتے ہیں اور ان میں باقی دنیا کا حصہ قرار دیا ہے اگر وہ طبعی وسائل سے کام نہ لیں تو کبھی اس قدر مالدار نہیں ہو سکتے مگر اب وہ دولت کے زور سے کانوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اس طرح دوسروں کے حقوق کو تلف کرنے کا موجب بنتے ہیں۔اسلام نے اس کا علاج یہ تجویز کیا ہے کہ کانوں میں سے پانچواں حصہ گورنمنٹ کا مقرر کیا ہے اور پھر جو مال کانوں کے مالک جمع کریں اور اس پر سال گزر جائے اس پر زکوۃ الگ ہے۔گویا اس طرح حکومت کانوں میں حصہ دار ہو جاتی ہے اور غرباء کیلئے ایک کافی رقم جمع ہو جاتی ہے جس سے ان کے حقوق ادا کئے جا سکتے ہیں اور وہ نقص پیدا نہیں ہوتا جو کانوں کی دریافت کی وجہ۔سے نظام تمدن میں واقع ہوتا ہے۔دوسروں کے اموال کو اُن کی خبر گیری کرنے کے دوسرا علاج اسلام نے یہ کیا کہ دنیا میں یہ اعلان کر دیا کہ بہانہ سے اپنے قبضہ میں کر لینے کا علاج اسلام میں لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى مَا مَتَّعْنَا بِه أَزْوَاجًا مِنْهُمْ وَلَا تَحْزَنُ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ كل فرماتا ہے تم دوسروں کے اموال اس بہانہ سے نہ لو کہ ہم ان کی خبر گیری کریں گے لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا ية أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ جو کچھ ہم نے لوگوں کو مال دیا ہے اس کی طرف آنکھیں اُٹھا اُٹھا کر نہ دیکھو وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمُ اور یہ نہ کہو کہ ہمیں ان کی حالت کو دیکھ کر بڑا غم ہوتا ہے فرماتا ہے یہ غم تم اپنے لئے ہی رہنے دو۔وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ تمہاری اپنی رعایا موجود ہے تم اس کی تمدنی ترقی کے لئے جتنی کوششیں چاہو کرو تمہیں اس سے کوئی منع نہیں کرتا۔ہاں اگر تم یہ کہو کہ ہمیں دوسروں کا غم بے چین کئے ہوئے ہے اور ان کی ترقی کے لئے ہم ان پر قبضہ کرنا ۶۶