انوارالعلوم (جلد 16) — Page 538
۶۵ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو تیسرے ایسے راستے گھلے تھے کہ جن کے ہاتھ میں دولت آ جائے وہ پھر نکلے نہیں۔چوتھے بے مصرف فنون پر روپیہ خرچ کیا جاتا اور اس کا نام آرٹ رکھا جاتا ہے ان میں سے بعض کسی جگہ اور بعض کسی جگہ رائج ہیں اور بعض سب جگہ رائج ہیں۔اسلام نے ان سب خرابیوں کے دروازے بند کر کے ترقی کے نئے رستے کھولے ہیں۔چنانچہ اسلام نے ان سب امور کا ان طریقوں پر علاج کیا ہے:۔باطنی غلامی یعنی ماتحتی کی وجہ سے پیدا اول اسلام نے یہ اعلان کیا ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ ساری دنیا کے لئے ہے۔کسی ایک کے لئے پیدا نہیں کیا۔یہ ایسی ہونے والے دُکھ کا علاج اسلام میں ہی بات ہے جیسے ماں باپ بعض دفعہ مٹھائی کی تھالی اپنے کسی بچے کو پکڑاتے ہیں تو وہ اکیلا ہی اسے کھا جانا چاہتا ہے اس پر اس کے ماں باپ اسے کہتے ہیں کہ یہ حصہ صرف تمہارا نہیں بلکہ تمہارے سب بھائیوں کا اس میں حق ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِى خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا اس دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب بنی نوع انسان کی مجموعی ملک ہے جیسے ماں اپنے کسی بچہ کو مٹھائی کی تھالی دے کر کہتی ہے کہ یہ تم سب بھائیوں کا حصہ ہے۔اس اصل کے ماتحت اسلام نے امپیریلزم ، نیشنل سوشلزم اور موجودہ انٹرنیشنل سوشلزم سب کو رڈ کر دیا ہے کیونکہ یہ فلسفے طاقتور اور عالم اور منظم قوموں کو دوسری اقوام پر تصرف کا حق دیتے ہیں۔آج کل بھی یہی بحث ہو رہی ہے کہ اگر یہ بات مان لی گئی کہ ہندوستان کو آزادی دے دی جائے تو کل افریقہ والے اپنی آزادی کا مطالبہ کریں گے حالانکہ وہ ننگے پھر تے تھے اور ہم نے انہیں تہذیب سکھائی۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ ننگے پھر تے تھے تو تم ان کا ننگ نہ دیکھتے اور اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے۔تم کہتے ہو وہ درختوں کے پتے کھایا کرتے تھے مگر ہم نے انہیں یہ آدمیت سکھائی اب کیا ہما را حق نہیں کہ ہم ان پر حکومت کریں۔ہم کہتے ہیں اگر وہ درختوں کے پتے یا پھل ہی کھایا کرتے تھے تو تمہارا کیا حق تھا کہ تم ان کے ملک پر قبضہ کرتے انہیں کیک کھلاتے۔پس هُوَ الَّذِی خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے اس میں ساری دنیا کا حصہ ہے یہ نہیں جیسے آج کل ساؤتھ افریقہ میں قانون بنا دیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی غیر شخص داخل نہ ہو ، اسی طرح