انوارالعلوم (جلد 16) — Page 447
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور دی تو اُس نے اسے مکا مارا جس سے پہرہ دار کے جسم سے خون بہہ نکلا۔ اس واقعہ میں دونوں کی غلطی ہے اُس نو جوان کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہ مخلص ہے اور اُس نے ایسے وقت میں اپنے اخلاص کو قائم رکھا جبکہ اُس کے بزرگ اس سے محروم ہو گئے تھے وہ ملاقات کرنا چاہتے تھے تو اس طرح اُن کو روکنا مناسب نہ تھا۔ چاہئے یہ تھا کہ پہرہ دار انہیں کہتے کہ تشریف لائیے آپ کا کس جماعت کے ساتھ تعلق ہے اور پھر اُس جماعت کے سیکرٹری صاحب کے پاس لے جاتے کہ یہ آپ کی جماعت کے فرد ہیں اور اس طرح ان کے لئے میرے ساتھ ملاقات کا انتظام کرتے ۔ پہرہ والوں کو سوچنا چاہئے تھا کہ ان کے روکنے کے بعد میرے ساتھ ملاقات کا ان کے پاس کیا ذریعہ تھا۔ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ یہ بادشاہت نہیں بلکہ خلافت ہے خلافت کو بادشاہت کا رنگ ہرگز نہیں دینا چاہئے ۔ روکنے والے کو خود غور کرنا چاہئے تھا کہ اگر وہ خود باہر کا رہنے والا ہوتا سال کے بعد یہاں آتا اور پھر اُسے خلیفہ کے ساتھ ملاقات سے روکا جاتا تو اُسے کتنا دکھ ہوتا اور اس دُکھ کا احساس کرتے ہوئے اسے اس طرح روکنا نہ چاہئے تھا۔ ملاقات کا موجودہ انتظام تو اس لئے ہے کہ جماعتیں اکٹھی ملیں تا واقفیت ہو سکے مگر بعض دفعہ ایک جماعت کے ساتھ دوسری جماعت کا کوئی دوست بھی آجاتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں اگر اسے آنے بھی دیا جاتا تو کیا اُس نے آتے ہی گولی چلا دینی تھی ؟ یہ انتظام تو صرف سہولت کے کے ۔ لئے ہے ورنہ لوگوں نے بہر حال ملنا ہے۔ پس جہاں تک ملاقات سے روکنے کا تعلق ہے روکنے والے کی غلطی ہے باقی رہا مگا مارنے کا معاملہ سو مارنے والا سپاہی ہے اور فوجی افسر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ان کو مگا بازی آگئی مگر اتنا کہتا ہوں یہ شرعاً ناجائز ہے۔ اگر ان پر ظلم ہوا تو چاہئے تھا کہ وہ اسے برداشت کرتے تا ہم جسے مارا گیا ہے میں اسے کہتا ہوں کہ وہ معاف کردے کیونکہ اس نے اس جذبہ کے زیر اثر مارا ہے کہ اسے خلیفہ سے ملنے سے روکا گیا۔ جب پہلے سال زنانہ جلسہ گاہ میں لاؤڈ سپیکر لگایا گیا تو بعض لڑکیوں کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ آنے والی عورتوں کو کھل کر بیٹھنے کو کہیں ان میں میری لڑکی کی بھی ڈیوٹی تھی بعض زمیندار عورتیں آئیں تو میری لڑکی نے ان سے کہا کہ یہیں بیٹھ جائیں آگے جانے کی ضرورت نہیں لاؤڈ سپیکر میں سے آواز پہنچتی رہے گی ۔ اُن عورتوں نے اس بات کو بہت برا منایا اور میری لڑکی کو نیچے گرا کر مارنے لگیں کہ تم ہمیں سننے سے روکتی ہو کیا یہاں اس بہونیو میں سے آواز آ سکتی ہے۔ میری لڑکی نے میرے پاس آ کر یہ بات بیان کی تو میں نے ہنس کر کہا کہ تمہیں بہت ثواب ہوا کہ تم نے خدا کے لئے مار کھائی پس میں نے یہ واقعہ