انوارالعلوم (جلد 16) — Page 448
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور عَلَى الْإِعْلَانِ اس لئے بیان کر دیا ہے کہ دوستوں پر واضح ہو جائے کہ دفتر والوں کا یہ کام نہیں کہ ملاقات سے کسی کو روکیں۔انہیں چاہئے کہ جماعت کے عہدیداروں سے پوچھیں کہ فلاں شخص آپ کی جماعت کا ہے یا نہیں اور پھر اس کے لئے ملاقات کا موقع بہم پہنچا ئیں اور اگر کوئی کارکن کسی کو اُس وقت رو کے جبکہ اُس کی جماعت مل رہی ہو تو اسے چاہئے کہ اصرار کرے کہ وہ ضرور ملے گا اور کہ اسے روکنے کا کسی کو حق نہیں۔اخبار نور کا ایک مضمون اور اسکی حقیقت اب میں ایک اور بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اخبار نور کا ۳ ستمبر کا ایک مضمون میرے سامنے ہے یہ واقعہ جس کا اِس میں ذکر کیا گیا ہے اُن دنوں کا ہے جب میں قادیان سے باہر تھا جب یہ واقعہ ہوا شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور نے مجھے اس کے متعلق خط لکھا کہ ایسا ایسا واقعہ ہوا ہے میں واپس آنے والا تھا اُن دنوں بارشیں بہت ہوئی تھیں اور اخباروں میں بھی چھپا تھا کہ بارش کی وجہ سے راستے خراب ہو چکے ہیں اس لئے دس بارہ روز تک نہ پہنچ سکا حتی کہ ڈاک بھی ۴۳ دن نہ مل سکی تھی۔شیخ صاحب کا یہ خط میں اکیس اگست کو مجھے ملا اور ۲۴ کو ہم قادیان روانہ ہو گئے۔اس اخبار پر ۲ ستمبر کی تاریخ ہے اور یہ امرتسر میں چھپتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ اگست کے آخر میں چھپ چکا تھا گویا اس کا مضمون و ه۲۴، ۲۵ کو دے چکے ہوئے تھے اور اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ خط انہوں نے رسماً لکھ دیا اس کا مقصد یہ نہ تھا کہ سلسلہ کی طرف سے تحقیقات کی جائے اگر یہ نیت ہوتی تو اخبار میں اس مضمون کی اشاعت کی کوئی ضرورت نہ تھی اور اگر انہیں اس بات کا خیال ہوتا کہ انہوں نے میری بیعت کی ہوئی ہے تو مجھے خط لکھنے کے بعد اگر دو ماہ تک بھی انتظار کرنا پڑتا تو کرتے۔میں نے اخبار ” الفضل میں اس مضمون کے بارہ میں یہ اعلان کرایا تھا کہ اس کے متعلق بعد میں اعلان کرایا جائے گا اس پر شیخ محمد یوسف صاحب نے مجھے لکھا کہ جب اس معاملہ کی تحقیقات کرائی جائے تو مجھے بھی موقع دیا جائے۔میں نے اس کا جواب یہ دیا کہ جب آپ نے اخبار میں مضمون چھاپا تھا تو کیا مجھے یا سلسلہ کے کارکنوں کو اپنا پہلو پیش کرنے کا موقع دیا تھا اگر آپ ایسا کرتے تو آپ کا بھی حق ہوتا کہ آپ کو موقع دیا جائے۔آپ نے اخبار میں اپنی مظلومیت بیان کر دی اور سلسلہ کا ظالم ہونا بیان کر دیا آپ کو چاہئے تھا کہ مجھ سے پوچھ لیتے یا امور عامہ سے پوچھ لیتے کہ میں نے اس طرح چٹھی لکھی تھی اس کا کیا بنا ہے؟ یا اگر خود ہی مضمون شائع کرنا چاہتے تھے تو مجھے لکھ دیتے کہ اب آپ دخل نہ دیں میں خود ہی انتظام کرلونگا۔یہ بھی