انوارالعلوم (جلد 16) — Page 381
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے ایسا ہی معاملہ کرتا ہے وہ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ خدا نے مؤمنوں سے اُن کی جانیں اور مال خرید لئے اور ان کے بدلہ میں انہیں جنت دے دی حالانکہ کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ جان اُس کی ہے یا کون ہے جو کہہ سکے کہ مال اُس کا ہے باوجود اس کے کہ نہ مال اُس کے پاس ہوتا ہے نہ جان اُس کے پاس ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے سودا کرنے آتا ہے اور کہتا ہے مجھ سے جان لو اور پھر مجھے یہ جان واپس دے کر مجھ سے سودا کرلو۔مجھ سے مال لو اور پھر یہ مال مجھے واپس دے کر مجھ سے سودا کر لو۔پس عجیب مینا بازار ہے کہ خود ہی ایک جان اور کچھ مال مہیا کیا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے لو اسے ہمارے پاس فروخت کر دو۔اور جب میں اس جان اور مال کو اس کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ بے شک مجھے اپنا غلام بنا لو تو یکدم وہ مجھے آزاد کر دیتا ہے اور میرے سارے طوق ، ساری زنجیریں، ساری بیڑیاں اور ساری ہتھکڑیاں کاٹ ڈالتا ہے اور پھر مجھے مینا بازار کی چیزیں ہی نہیں دیتا بلکہ سا را مینا بازار میرے حوالے کر دیا جاتا ہے اور اس کی تمام چیزوں کا مجھے مالک بنا دیا جاتا ہے اور پھر انہی چیزوں کا ہی نہیں بلکہ ساتھ ہی یہ بھی انتظام کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی نئی طبعی خواہش پیدا ہو گی تو وہ بھی پوری کی جائے گی۔اور اگر کوئی نئی علمی خواہش پیدا ہو گی تو اُس کو پورا کرنے کے بھی ہم ذمہ دار ہوں گے۔اور پھر مجھے کہا جاتا ہے کہ ان چیزوں کے متعلق تسلی رکھنا ، نہ یہ چیزیں ختم ہوں گی اور نہ تم ختم ہو گے گویا ان سب چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے مجھ پر سے بھی اور ان چیزوں پر سے بھی فنا کا اثر مٹا دیا جائے گا۔جب میں نے یہ نظارہ دیکھا اور روحانی طور پر مجھے ان الہی اسرار کا علم ہوا تو میں اپنے اس ناقص علم پر جو مجھے آزادی اور غلامی کے متعلق تھا ، سخت شرمندہ ہوا۔اور میں حیران ہو گیا کہ میں کس چیز کو آزادی سمجھتا تھا اور کس چیز کو غلامی قرار دیتا تھا۔جس چیز کو میں آزادی سمجھتا تھا وہ ایک خطرناک غلامی تھی اور جس چیز کو میں غلامی سمجھتا تھا وہ حقیقی آزادی اور حریت تھی۔میں شرمندہ ہوا اپنے علم پر، میں حیران ہوا اس عظیم الشان حقیقت پر اور فی الواقع اُس وقت سر سے لے کر پاؤں تک میرا تمام جسم کانپ اُٹھا اور میری روح ننگی اور عریاں ہو کر خدا کے سامنے کھڑی ہوگئی اور بے اختیار میں نے کہا کہ اے میرے آقا! یہ غلامی جو تو پیش کر رہا ہے ، اس پر ہزاروں آزادیاں قربان ہیں۔اے آقا! مجھے جلد سے جلد اپنا غلام بنالے، مجھے بھی اور میرے سب