انوارالعلوم (جلد 16) — Page 380
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ بھی سامان ہو۔پس میں نے سوچا کہ اگر کبھی عقلی ضرورت محسوس ہو گی ، گو اس کے ساتھ طبعی خواہش نہ ہوئی تو کیا یہ ضرورت بھی پوری ہوگی یا نہیں؟ اس پر میں نے دیکھا تو اس کا بھی انتظام تھا۔چنانچہ لکھا تھا لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاءُ وَنَ ۵۳ وہاں جنتی جو کچھ چاہیں گے انہیں مل جائے گا۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ مشیت دل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ، مگر اشتہاء نفسانی خواہشات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔پس وہاں انسان کی اشتہاء بھی پوری ہوگی اور انسان کی مشیت بھی پوری ہو گی۔گویا جن کے اندر طبعی خواہشات پیدا ہوں گی جو اُن کے روحانی جسموں کے مطابق ہوں گی ان کے لئے ان کی طبعی خواہشوں کے پورا کرنے کے سامان کئے جائیں گے اور جنہیں عقلی ضرورت محسوس ہو گی اُن کی اِس ضرورت کو بھی وہاں پورا کر دیا جائے گا۔ریب مینا بازار میں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو کہا ہمارے خدا کا عجیب و غریب مینا بازار سُبْحَانَ اللهِ وہ مینا بازار اور مارکیٹیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی چیزیں یا تو میری طاقت سے باہر ہوتی ہیں اور اگر طاقت کے اندر ہوتی ہیں تو ضروری نہیں ہوتا کہ میری اشتہاء یا میری مشیت کو پورا کرنے والی ہوں۔اور اگر میری اشتہاء یا میری مشیت کو پورا کرنے والی ہوں تو ضروری نہیں ہوتا کہ میں اُن سے فائدہ اُٹھا سکوں۔مثلاً اگر پینے کے لئے دُودھ مل جاتا ہے لیکن میں بیمار ہو جاتا ہوں تو اس دودھ کا مجھے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔اور اگر میں اُن سے فائدہ اُٹھا بھی لوں تو ایک دن یا وہ فنا ہو جائیں گی یا میں فنا ہو جاؤں گا۔مگر یہ عجیب مینا بازار ہے ہمارے خدا کا کہ اس میں مجھ سے جان اور مال طلب کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے بدلہ میں سارے مینا بازار کی چیزیں اور خود مینا بازار کی عمارت تمہارے سپرد کی جاتی ہے۔جب اس سے کہا جاتا ہے کہ لاؤ اپنا مال اور لا ؤ اپنی جان کہ میں مینا بازار کی سب چیزیں اور خود مینا بازار کی عمارت تمہارے سپرد کر دوں تو بندہ ادھر ادھر حیران ہو کر دیکھتا ہے کہ میرے پاس تو نہ مال ہے نہ جان میں کہاں سے یہ دونوں چیزیں لاؤں۔اتنے میں چُپ چاپ اللہ تعالیٰ خود ہی ایک جان اور کچھ مال اُس کے لئے مہیا کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ لو میں یہ تمہیں جان اور مال دے رہا ہوں تم یہ مال اور جان میرے پاس فروخت کر دو۔غالب تھا تو شرابی مگر اُس کا یہ شعر کروڑوں روپیہ سے بھی زیادہ قیمتی ہے کہ :- جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو کہ حق ادا ہے نه ہوا