انوارالعلوم (جلد 16) — Page 328
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) نهم : کسی دُکان پر نہایت اعلیٰ اور نفیس برتن فروخت ہوتے ہوں گے۔دھم کسی دکان پر جنگ کے سامان یعنی تلواریں اور طپنچے وغیرہ فروخت ہوتے ہونگے۔یازدهم: کسی دُکان پر گھروں کا سامان قالین ، سیکیے اور تخت وغیرہ فروخت ہوتے ہونگے۔ایک اور روحانی بازار میں نے سوچا کہ یہ بازار نہایت دلکش ہوتے ہوں گے اور دیکھنے کے قابل اور بہت اعلیٰ درجہ کی چیزیں یہاں آتی ہوں گی۔مگر جب میں اس قلعہ پر تھا تو میں نے سوچا کہ کیا اس سے اچھے بازار بھی کہیں ہو سکتے ہیں ؟ تو میں نے دیکھا ایک اور روحانی بازار کا ذکر قرآن کریم میں ہے جس میں نہ صرف یہ سب چیزیں بلکہ ان سے بھی اعلیٰ درجہ کی چیزیں ملتی ہیں۔مگر میں نے اس بازار کا طریق ان بازاروں سے ذرا نرالا دیکھا یعنی اُن بازاروں میں تو یہ ہوتا ہے کہ الگ الگ دُکاندار ہوتے ہیں۔کوئی شربت فروخت کر رہا ہوتا ہے، کوئی شہد لے کر بیٹھا ہوتا ہے، کسی کے پاس قالین اور سیکیے وغیرہ ہوتے ہیں، کسی دُکان پر لباس اور کسی پر پھل وغیرہ فروخت ہوتا ہے اور باہر سے گاہک آتا ہے جیب سے پیسے نکالتا ہے اور چیز خرید لیتا ہے۔مگر اس بازار کا میں نے عجیب حساب دیکھا کہ بیچنے والے بہت سے تھے مگر گاہک ایک ہی تھا اور پھر جتنے بیچنے والے تھے وہ سب کے سب صرف دو چیزیں بیچتے تھے اور جو گاہک تھا وہ ان دو چیزوں کے بدلہ میں انہیں بہت کچھ دے دیتا تھا۔میں نے کہا یہ عجیب قسم کا مینا بازار ہے اور بازاروں میں تو یہ ہوتا ہے کہ پچاس دُکانیں ہوں تو سو خریدار ہوتا ہے مگر یہاں دُکانیں تو لاکھوں اور کروڑوں تھیں مگر خریدار ایک ہی تھا اور پھر ان دکانوں کی خوبی یہ تھی کہ ان میں صرف دو ہی چیزیں پکتی تھیں زیادہ نہیں اور وہاں تو خریدار پیسے دیتے تھے مگر یہ عجیب گا ہک تھا کہ فروخت کر نیوالے کو ہر قسم کا سامان بدلہ میں دے دیتا تھا اور یہ بھی کہہ دیتا کہ اپنی ان دو چیزوں کو بھی اپنے پاس ہی رکھو، چنانچہ اس بازار کا یہ نقشہ میں نے قرآن کریم میں دیکھا۔اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقَّافِى التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآن وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِى بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۲۳ فرماتا ہے مینا بازار لگ گیا ، شاہی بازار آراستہ و پیراستہ ہو گیا تم سب آ جاؤ مگر خریدار ہو کر نہیں بلکہ اپنا سامان لے کر یہاں بیچنے کیلئے آ جاؤ ، بادشاہ خود خریدار بن کر آیا ہے اور اُس