انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 327

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ لگتے تھے اور ہر قسم کی چیزیں وہاں فروخت ہوتی تھیں۔یہ بازار شاہانہ کرو فر کا ایک نمونہ ہوتے تھے اور بادشاہ خود اِن بازاروں میں آکر چیزیں خریدا کرتے تھے۔آجکل بھی شاہی نگرانی میں بعض دفعہ بازار لگتے ہیں، چنانچہ لاہور میں کبھی کبھی نمائش ہوتی ہے جس میں تمام قسم کی دُکانیں ہوتی ہیں اور انسان کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ اُسے مل جاتی ہے۔لنڈن میں بھی ایک دفعہ ویمبلے کی نمائش ہوئی تھی۔اسی موقع پر ایک مذہبی کا نفرنس بھی ہوئی جس میں میں نے مضمون پڑھا تھا۔اُس وقت میں نے بھی اس بازار کو دیکھا تھا ، مگر جو دُھند الانقش میرے دماغ پر رہ گیا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں اس سے کچھ زیادہ متاثر نہ ہوا تھا۔پرانے زمانہ کے بادشاہ بھی اسی قسم کے بازار لگا یا کرتے تھے اور وہاں قسم قسم کی چیزیں فروخت ہوا کرتی تھیں۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ کیا ہی اچھے بازار ہوتے ہوں گے جہاں بادشاہ اور وزرا ء خود خریدار بن کر آتے ہوں گے اور اچھی سے اچھی چیزیں پکتی ہوں گی۔مینا بازار میں فروخت ہو نیوالی اشیاء پھر میں نے اپنے ذہن میں سوچا کہ وہاں کیا کیا چیزیں فروخت ہوتی ہوں گی ؟ اور اس سوال کا میرے دل نے مجھے یہ جواب دیا کہ :- اول: وہاں نہایت اعلیٰ درجہ کے مؤدب اور سیکھے ہوئے غلام فروخت ہوتے ہونگے۔دوم: وہاں عمدہ سے عمدہ سواریاں پکتی ہوں گی۔سوم: میں نے اپنے دل میں سوچا کہ وہاں پینے کی چیزیں بھی فروخت ہوتی ہوں گی۔کوئی کہتا ہوگا برف والا پانی لے لو، کوئی کیوڑہ اور بید مشک کا شربت فروخت کرتا ہوگا ، کوئی تازہ دودھ فروخت کرتا ہوگا ، کوئی شہد فروخت کرتا ہو گا ، کوئی اُس وقت کے ملک کے رواج کے مطابق شراب فروخت کرتا ہوگا اور کوئی گرم چائے فروخت کرتا ہو گا۔چہارم: پھر کھانے کے لئے عمدہ سے عمدہ چیزیں فروخت ہوتی ہوں گی، کہیں پرندوں کے کباب فروخت ہوتے ہوں گے، کہیں انگور، کیلے، انار اور رنگترے وغیرہ فروخت ہوتے ہوں گے۔کسی جگہ لباس کی دُکانیں ہوں گی اور اچھے سے اچھے لباس فروخت ہوتے ہونگے۔ششم: کہیں زینت کے سامان آئینے کنگھیاں ، ربن اور پاؤڈر وغیرہ فروخت ہوتے ہوں گے۔ہفتم: کسی دُکان پر خوشبوئیں اور عطر وغیرہ فروخت ہوتا ہوگا۔ہشتم: بعض ایسی دکانیں ہوں گی، جہاں سے طاقت کی دوائیں ملتی ہوں گی جن سے زندگی کی حفاظت ہو۔