انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 310

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ اگر ہم صحابہ کو منافق کہتے ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں منافقوں کو منافق کہنے پر اعتراض نہیں بلکہ مؤمنوں مخلصوں ، اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ کو منافق کہنے پر اعتراض ہے قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول کے کچھ ساتھی منافق تھے، لیکن وہ صحابہ کی بڑی جماعت کو مخلص اور رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۵ کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ ابتدائی زمانہ اسلام میں تلے تھے یعنی ایک بڑی جماعت تھے اور عام مؤمن اور مخلص بھی بڑی جماعت تھے ہمیں صرف یہ اعتراض ہے کہ شیعہ صاحبان بڑی جماعت کو منافق اور صرف چند اصحاب کو مؤمن کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نا کام اور نامراد قرار دیتے ہیں۔نَعُوذُ بِاللهِ من ذلك - حالانکہ قرآن کریم آپ کی قوت قدسیہ کو کامیاب و بامراد فرماتا ہے اور تاریخ اور واقعات بھی اس پر شاہد ہیں اور دشمن بھی اقراری ہیں۔وَ الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ و کاموں کی اہمیت کا صحیح اندازہ لگانے میں مشکلات دوسری مشکل ہمیں یہ پیش آتی ہے کہ علاوہ منافقت کے، کاموں کی اہمیت کا بھی صحیح اندازہ دنیا میں نہیں لگایا جا سکتا۔بعض کام بہت چھوٹے دکھائی دیتے ہیں مگر بعد میں ان سے بڑے بڑے اہم نتائج پیدا ہوتے ہیں۔بعض فقرات چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں مگر ان کے اثرات بڑے وسیع ہوتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں کئی باتیں وقتی طور پر بڑی دکھائی دیتی ہیں مگر نتائج کے اعتبار سے بالکل بے حقیقت ہوتی ہیں۔پھر کئی کام ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا حالانکہ اُن سے بھی انسان کے اخلاق و عادات پر نہایت گہری روشنی پڑتی ہے پس میں نے سوچا کہ جب تک یہ مشکل حل نہیں ہو گی اُس وقت تک کام نہیں بنے گا۔بیشک قرآن سے ایک مقبرے کا تو پتہ لگ گیا مگر جب تک مقبرہ ہر شخص کے اعمال کے مطابق نہ ہو اُس وقت تک مقبرہ کی غرض پوری نہیں ہو سکتی۔چھوٹے بڑے عمل کو محفوظ رکھا جاتا ہے روحانی مقبرہ میں انسان کے ہر جب میں نے اس کے متعلق قرآن کریم پر غور کیا تو مجھے دکھائی دیا کہ قرآن کریم نے اس مشکل کا حل کیا ہوا ہے اور وہ بتاتا ہے کہ اس مقبرہ کے متعلق ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ اس میں ہر شخص کا چھوٹا بڑا عمل لکھ کر رکھ دیا جاتا ہے اور اس طرح مقبرہ کی اصل غرض پوری ہو جاتی ہے چنانچہ فرماتا ہے وَوُضِعَ الْكِتَبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّافِيهِ وَيَقُولُونَ