انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 309

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ ہیں جو دوسرے مذہب میں شامل ہو جاتے ہیں مگر در حقیقت وہ شامل نہیں ہوتے۔قرآن کریم میں ہی منافقوں کا ذکر آتا ہے اور منافق وہی ہوتا ہے جو چُھپ کر رہے اوپر سے تو ظاہر کرے مگر دل میں اس کے کچھ اور ہو۔اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کا بیشک یہ کہہ کر رڈ کیا ہے کہ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ۔وہ مؤمن نہیں ہیں مگر ان کا نام تو ظاہر نہیں کیا کہ پتہ لگ جا تا فلاں مؤمن نہیں بلکہ منافق ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان منافقوں کا علم دیا گیا تھا اور بعض کے نام آپ نے ظاہر بھی فرمائے مگر کئی ایسے منافق تھے جن پر پردہ پڑا رہا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عام لوگوں کو نہیں بتایا کہ وہ منافق ہیں۔حضرت حذیفہ ایک صحابی تھے انہیں اس بات کا بڑا شوق تھا کہ وہ یہ معلوم کریں کہ ہم میں منافق کون کون ہیں؟ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑے رہتے تھے کہ يَارَسُولَ اللهِ ! مجھے ان کے نام بتا دیجئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُن کے اصرار کو دیکھ کر آخر بتا دیئے۔رفتہ رفتہ لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ حدیفہ کو منافقین کا علم ہے چنانچہ جس کے جنازہ پر حذیفہ نہیں جاتے تھے اُس کے جنازہ پر باقی صحابہ بھی نہیں جاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ منافق ہی ہوگا تبھی حذیفہ اُس کے جنازہ میں شامل نہیں ہوئے۔اب دیکھو وہ منافق تو تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان پر پردہ ڈال دیا اور لوگوں کے لئے یہ معلوم کرنا مشکل ہو گیا کہ کون کون منافق ہیں۔ایسی حالت میں کسی منافق کا بھی مقبرہ بنا دیا جائے اور اس پر اس کی بڑی تعریف لکھ دی جائے تو دنیوی لحاظ سے یہ بالکل صحیح ہو گا مگر واقعات کے لحاظ سے اس سے بڑا جھوٹ اور کوئی نہیں ہوگا۔عبداللہ بن ابی بن سلول جو منافقین کا سردار تھا اسے تو خدا تعالیٰ نے ظاہر کر دیا مگر اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اور بھی کئی منافق تھے جو ظاہر نہیں ہوئے قرآن کریم اس پر شاہد ہے۔ایسی صورت میں یہ ممکن ہے کہ ہم لوگ صحابہ میں ان کا نام دیکھ کر ان کی تعریفیں کرتے ہوں مگر وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد ہوں۔آخر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں بتایا کہ کون کون منافق ہے تو ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ مخفی رہے ہوں۔بڑے لوگوں میں سے نہیں بلکہ ادنی درجہ کے صحابی جن میں سے بعض کے نام بھی اسلامی کارناموں میں نہیں آتے ممکن ہے کہ ان میں سے بعض منافق ہوں۔اب بالکل ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کے مقابر پر کوئی شخص لکھدے کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ مقربانِ بارگاه صمدی ، مگر واقعہ یہ ہو کہ وہ راندہ درگاہ ہوں نہ کہ خدا کے مقرب اور اس کی رضا حاصل کرنے والے۔اس جگہ کوئی شیعہ صاحب اگر یہ اعتراض کر دیں کہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ صحابہ میں بعض منافق تھے اور وہ پوشیدہ رہتے تھے پھر