انوارالعلوم (جلد 16) — Page 311
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) يوَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًال یہاں چونکہ دوزخیوں کا ذکر ہے اس لئے فرماتا ہے وَوُضِعَ الكتب اور ان کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور جب انہیں معلوم ہوگا کہ ان کے سارے اعمال اس میں آگئے ہیں تو تو مجرموں کو دیکھے گا کہ وہ کانپنے لگ جائیں گے اور کہیں گے او ہو! جو اعمال ہم نے چھپائے تھے وہ تو آج سب ظاہر ہو گئے اور کہیں گے ارے موت ! تو کیسی میٹھی چیز ہے، تو کیسی اچھی چیز ہے، تو آتا کہ ہم مر جائیں اور اس ذلت اور رسوائی کو نہ دیکھیں مگر وہاں موت کہاں۔پھر وہ کہیں گے یہ کیسی کتاب اور کیسا اعمال نامہ ہے کہ کوئی چھوٹا یا بڑا عمل نہیں چھوڑتی خواہ گھر میں کیا جائے خواہ باہر کیا جائے ، خواہ بیوی بچوں کی موجودگی میں کیا جائے اور خواہ ان سے چُھپ کر کیا جائے ، خواہ دوستوں میں کیا جائے خواہ دوستوں کی عدم موجودگی میں کیا جائے ، پھر چاہے وہ عمل کسی غار میں کیا جائے اور چاہے میدان میں اور جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا، سینما کی تصویروں کی طرح ان کے سامنے آ جائے گا اور ان کے ہر عمل کی فلم ان کی آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگ جائے گی۔گویا ان کے خلاف ڈبل شہادت ہوگی ایک طرف تو ان کے اعمال کی فہرست ان کے سامنے پیش ہوگی اور دوسری طرف انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے جو کیا ہو گا اس عمل کی فلم بنا کر ان کے سامنے لائی جائے گی۔اسی مفہوم کو ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں بیان فرمایا ہے کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے یعنی انسان نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں وغیرہ سے جو جو اعمال کئے ہونگے ان کو ظاہر کرنے کے لئے اعمال کے ریکارڈ پر گراموفون کی سوئی لگا دی جائے گی جس سے ان کے اپنے گزشتہ اعمال کی تمام تفصیل ان کے سامنے آ جائے گی وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا وہ یہ نہیں کر سکتا تھا کہ بغیر حجت کے انہیں سزا دے اسی لئے وہ ایک طرف تو فرشتوں کو بطور گواہ پیش کرے گا جو اعمالنا مہ اس کے سامنے رکھ دیں گے اور دوسری طرف اس کے اعمال کی فلم اس کی آنکھوں کے سامنے لائی جائے گی۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کے عمل چھوٹے ہوں یا بڑے، اس مقبرہ میں محفوظ رکھے جاتے ہیں تا کہ مقبرہ کی جو اصل غرض ہے کہ انسان کی گزشتہ زندگی کا نشان قائم رہے وہ پورا ہو۔