انوارالعلوم (جلد 16) — Page 200
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ اُس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اُس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوتا تھا۔ اور یہ کہ ”میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا 66 ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر ۱۰۰ میں مولوی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ وہ حوالہ کہاں ہے جو انہوں نے لکھا ہے اور وہ الہامات کون سے ہیں جو حضور علیہ السلام کھنگار کی طرح پھینک دیتے تھے۔ ان میں سے کوئی ایک ہی الہام پیش کر دیں۔ مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر نویسی آخر میں جناب مولوی صاحب اپنی تسیر نویسی کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ چونکہ میں نے انگریزی میں تفسیر لکھی ہے اس لئے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کام کر نیوالا اور آپ کی شاخ ہوں ۔ مگر یہ یاد نہیں رہا کہ پہلی تفسیر ڈاکٹر عبد الحکیم مرتد نے لکھی تھی۔ پھر وہ کیوں آپ کی شاخ نہ کہلا سکا؟ آپ کو یاد رہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں اس تفسیر کا ذکر کیا ہے اس سے پہلے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کی آیت میں اس زمانہ کی خبر دے رکھی تھی اور وہ شخص میں ہوں جو اس خبر کے مطابق ظاہر ہوا ہوں ۔ اور پھر فرماتے ہیں ان علوم اور برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خدا تعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں ۔ ۱۲ پس جس تفسیر کا آپ نے ارادہ کیا تھا وہ تو وہ تھی جس میں ان تازہ نشانات کا بھی ذکر ہو جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ظاہر کئے تھے۔ مگر آپ نے تو اپنی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق پیشگوئیوں کو جو آپ نے اپنے بارہ میں تحریر فرمائی ہیں کہیں درج نہیں کیا اور نہ ان تازہ نشانات کو پیش کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے ظاہر فرمائے ہیں۔ پھر آپ کی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر یا آپ کی شاخ کی تفسیر کس طرح کہلا سکتی ہے؟ ایسی بیسیوں آیات ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پر چسپاں فرمایا ہے لیکن آپ نے اپنی تفسیر میں انکا ذکر تک نہیں کیا ۔ مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذوالقرنین کے ذکر کو ایک پیشگوئی قرار دیا ہے اور اپنے پر چسپاں فرمایا ہے کیا آپ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے؟ نیز مثلاً آیات إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَ اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ۔ وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا يَوْمَئِذٍ