انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 201

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا بِأَنَّ رَبَّكَ اَوْحَى لَهَا " کو حضور علیہ السلام نے اپنے متعلق ظاہر فرمایا ہے اور اوحی لھا میں اپنی وحی کا ذکر بیان فرمایا ہے مگر کیا آپ نے بھی اس کا ذکر فرمایا ہے؟ پھر جب آپ نے اپنی تفسیر کو کثرت سے فروخت کرنے کی خواہش کے ماتحت اس قدر بحل حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا ہے تو آپ کی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کس طرح کہلا سکتی ہے؟ وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کے خلاف ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ آپ نے کئی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر پر جنسی اُڑائی ہے اور اس کی متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔چنانچہ ایک مثال ذیل میں درج کی جاتی ہے۔آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ کے معنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو یہ فرماتے ہیں کہ : نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفے کی خبر اُس کو مل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ * اسی طرح فرماتے ہیں۔د لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے۔جیسا کہ آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارتضے مِنْ رَّسُولٍ سے ظاہر ہے پس مصفے غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا۔مگر آپ اپنی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں۔اور آگے إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ مِیں إِلَّا استثنائے منقطع ہے یعنی رسولوں کو جس قدر علم چاہتا ہے دیتا ہے سارا انہیں بھی نہیں دیتا لكِنِ الرَّسُوْلَ ارْتَضَى يُظْهِرُهُ جَلَّ وَ عَلَا عَلَى بَعْضِ الْغُيُوبِ الْمُتَعَلَّقَةِ بِرِسَالَتِه بلحاظ سیاق سوائے اس معنے کے اور کوئی معنے درست نہیں۔۱۰۴ دیکھا آپ نے کس صفائی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معنوں کو باطل کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فرماتے ہیں إِلَّا کے بعد کے حصہ کے یہ معنے ہیں کہ یہ فعل صرف رسولوں سے کرتا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ یہ معنے درست نہیں بلکہ الا منقطع ہے اور آیت کے پہلے ٹکڑے کے یہ معنے نہیں کہ رسولوں کو غیب پر غلبہ دیتا ہے بلکہ یہ معنے ہیں کہ کسی کو بھی اپنے غیب پر غلبہ نہیں بخشتا خواہ رسول ہو یا غیر رسول۔اور الا کے بعد کے فقرہ کے یہ معنے ہیں کہ ہاں رسولوں