انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 178

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ جو حوالے میں او پر لکھ آیا ہوں ان میں سے دو میں آپ نے اسلام کی اصطلاح میں نبوت کی یہ تعریف کی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے امور غیبیہ پر مطلع کیا جائے وہ نبی ہوتا ہے۔ان میں سے ایک حوالہ تو الحکم کی ڈائری کا ہے اور دوسرا حوالہ آپ کی تصنیف لیکچر سیالکوٹ کا ہے۔اب اس مخالف حوالہ کو مدنظر رکھ کر ہم دو میں سے ایک بات تسلیم کر سکتے ہیں یا تو یہ کہ ان میں سے ایک حوالہ غلط ہے یا پھر یہ کہ ان حوالوں میں اسلام کی اصطلاح کے الفاظ دو مختلف معنوں میں مستعمل ہوئے ہیں۔اگر اس اختلاف کی یہ تاویل کی جائے کہ الحکم ۱۸۹۹ء کا حوالہ درست ہے اور دوسرے دو حوالے غلط ہیں تو یہ بالبداہت باطل ہے۔کیونکہ اول تو ”الحکم“ کے اس حوالہ کے مقابل پر دو حوالے ہیں جن میں سے ایک ڈائری کا حوالہ ہے اور دوسرا خود آپ کی تصنیف کا۔اگر آپ کی تحریر کے مقابل پر صرف ڈائری ہوتی تو خیال کیا اسکتا تھا کہ ڈائری غلط ہے مگر جب کہ ڈائری کی تائید آپ کی تصنیف کر رہی ہے اسے غلط کس طرح کہا جا سکتا ہے۔اور اگر یہ تاویل کی جائے کہ ان دونوں قسم کے حوالوں میں اسلام کی اصطلاح مختلف معنوں میں استعمال ہوتی ہے تو میرے نزدیک ۱۸۹۹ء کے الحکم کے حوالہ میں اسلام کی اصطلاح کے معنے اہلِ اسلام کی اصطلاح کے ہیں اور یہ مراد نہیں کہ دینِ اسلام کی اصطلاح میں نبی اسے کہتے ہیں کہ جو شریعت لائے یا براہ راست نبی ہو۔اور اگر یہ تاویل کی جائے تو پھر اس حوالہ سے نفسِ مضمون پر کچھ بھی اثر نہیں پڑتا کیونکہ یہ ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے نزدیک نبوت کے یہی معنے ہیں۔اہل اسلام کو لفظ اسلام سے تعبیر کرنا محاورہ بھی ہے مثلا مسلمانوں کے روز مرہ میں یہ بولا جاتا ہے کہ آج اسلام کی یہ حالت ہے کہ ہر جگہ وہ ذلیل ہو رہا ہے اور اس سے مذہب اسلام نہیں بلکہ مسلمان مراد لئے جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی اصرار کرے کہ نہیں الحکم ۱۸۹۹ء کا حوالہ ہی اصل ہے یا یہ کہ اس میں تو اسلام سے مراد دین اسلام ہے اور دوسرے دو حوالوں میں اسلام کی اصطلاح سے مراد اہل اسلام کی اصطلاح ہے تو میں کہتا ہوں کہ ایسے شخص کو دو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اول تو اسے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ زمانہ حال کے مسلمانوں کے نزدیک نبی اسے کہتے ہیں کہ جو محض مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہو اور غیب کی اخبار پر اسے غلبہ دیا جائے اور یہ بالبداہت غلط ہے۔مسلمان تو اس عقیدہ کو کلی طور پر رڈ کرتے ہیں یہ عقیدہ تو بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے پیش کیا جاتا رہا ہے مگر آپ کے مخالف اسے خود ساختہ تعریف قرار دے کر