انوارالعلوم (جلد 16) — Page 177
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبین اور امام وقت۔۔۔دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اُس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اُسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں۔۵۸۰ خلاصہ اوپر کے مضمون کا یہ ہے کہ حدیث میں نبی کے لفظ کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعارہ قرار دیا ہے وہ محض اس بناء پر ہے کہ عام مسلمانوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا تھا کہ نبی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شریعت جدیدہ لائے اور کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔اور آپ بھی اُس وقت تک کہ خدا تعالیٰ کی متواتر وحی نے آپ کے خیال میں تبدیلی نہ کر دی عام مسلمانوں کے خیال کے مطابق ایسا سمجھتے رہے۔پس ایک زمانہ تک تو عام مسلمانوں کے خیال اور اس کے مطابق اپنے خیال کی بناء پر آپ اسے استعارہ قرار دیتے رہے اور بعد میں جب اللہ تعالیٰ کی وحی نے آپ پر حقیقت کو واضح کر دیا تو آپ صرف عوام کی تشریح کے مطابق اور ان کو دھوکا سے بچانے کے لئے اسے استعارہ قرار دیتے رہے تا وہ آپ کے دعوی سے یہ نہ سمجھ لیں کہ آپ کو صاحب شریعت ہونے کا دعوی ہے ورنہ اس تعریف کو مد نظر رکھتے ہوئے جو خدا تعالیٰ کی اصطلاح میں ، قرآن کریم کی اصطلاح میں ، اسلام کی اصطلاح میں ، سابق انبیاء کی اصطلاح میں لغت کی اصطلاح اور خدا تعالیٰ سے علم پانے کے بعد خود آپ کی اصطلاح میں نبی کی ہے آپ نے کبھی اسے استعارہ نہیں قرار دیا۔اور جو شخص ان اصطلاحات کی بناء پر بھی آپ کی نبوت کو محض استعارہ نبوت قرار دیتا ہے اُسے دو باتوں میں سے ایک کو ضرور تسلیم کرنا پڑیگا۔یا تو اسے یہ ماننا پڑے گا کہ آپ کو کثرت سے امور غیبیہ عطاء نہیں ہوئیں یا اسے پھر یہ ماننا پڑے گا کہ سابق انبیاء میں سے بھی اکثر نبی نہ تھے۔اس جگہ ایک شبہ پیش کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی ایک ایک شبہ کا ازالہ تحریر میں یہ درج ہے کہ :- اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکامِ شریعتِ سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی اُمت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے ،، خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔“ ۵۹ اس حوالہ سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ شریعت جدیدہ لانے یا براہ راست نبی ہونے کی شرط کو نبی کے لئے عوام مسلمانوں کا عقیدہ قرار نہیں دیتے بلکہ اسلام کی اصطلاح قرار دیتے ہیں اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اسلام کی اصطلاح پہلے کچھ تھی اور بعد میں کچھ اور ہوگئی۔