انوارالعلوم (جلد 16) — Page vi
انوار العلوم جلد ۱۶ ۳۔خدام کو ہر قسم کی قربانیوں کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہیئے۔۴۔مصائب و تکالیف کے دوران خدا کی رضا کے لئے صبر و تحمل اختیار کرنا۔۵۔ہمیشہ اور ہر حال میں سچائی کو اختیار کرنا اور جھوٹ سے نفرت کرنا۔۶۔عفوا ور درگز را ور چشم پوشی سے کام لینا۔ے۔یورپین کھیلوں کی بجائے دیسی ودیہاتی کھیلوں کو رواج دینا۔تعارف کا ۸۔مرکزی عہدیداران کا خود پروگراموں میں حصہ لینا اور تمام خدام کے ساتھ ذاتی تعلق اور واقفیت پیدا کرنا۔۹۔اعمال میں نفسانیت کا شائبہ تک نہ ہو بلکہ تمام اعمال محض خدا کی رضا کے لئے ہوں۔چنانچہ اس تعلق میں آپ خدام کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:- میں چاہتا ہوں کہ تمہارے اعمال بھی خدا کے لئے ہوں۔اُن میں نفسانیت کا کوئی شائبہ نہ ہو۔اُن میں بُزدلی کا کوئی شائبہ نہ ہو اور اُن میں تقویٰ کے خلاف کسی چیز کی آمیزش نہ ہو۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص اتنا مضبوط، اتنا بہادر اور اتنا دلیر اور اتنا جری ہو کہ جب تم کسی کو معاف کرو تو لوگ خود بخود کہیں کہ تمہارا عفو خدا کے لئے ہے کمزور ہونے کی وجہ سے نہیں۔ایسی قربانی دلوں کو موہ لیتی ہے۔“ (۵) عراق کے حالات پر آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن لاہور سے تقریر یہ خطاب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اس تقریر مشتمل ہے جو حضور نے عراق کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائی۔یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن لاہور سے ۲۵ رمئی ۱۹۴۱ء کونشر ہوئی اور اسے دہلی اور لکھنو کے اسٹیشنوں سے بھی نشر کیا گیا۔اس تقریر کا محرک در اصل دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی اور اٹلی کا عراق پر حملہ آور ہونا تھا۔حضور نے اس تقریر میں پہلے تو عراق کی اسلامی تاریخ کے لحاظ سے جو اہمیت ہے نیز تمام امت مسلمہ کا جو عراق کے ساتھ جذباتی تعلق وابستہ ہے اُس پر روشنی ڈالی۔اس کے بعد بتایا کہ عراق پر حملہ دیگر اسلامی ملکوں حتی کہ ہندوستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔لہذا یہ وقت سوم