انوارالعلوم (جلد 16) — Page v
انوار العلوم جلد ۱۶ تعارف کتب قادیان کے موقع پر ارشاد فرمایا۔یہ روح پرور تقریر سیر روحانی کا ہی تسلسل ہے۔اس تقریر میں حضور نے دو چیزوں کو موضوع بنایا ہے۔پہلا موضوع مساجد ہیں۔اس موضوع پر حضور نے ظاہری مساجد کا ذکر کر کے عالم روحانی کی شاندار مساجد کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ مساجد کی غرض و غایت کیا ہوتی ہے اور فوائد کیا ہیں۔اس تعلق میں آپ نے مساجد کی دس خصوصیات بیان فرمائی ہیں اور صحابہ کرام کی روحانی طور پر مساجد کے ساتھ گہری نسبت ثابت فرمائی ہے۔کیونکہ مساجد اور صحابہ کی خصوصیات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔مثلاً دعوت الی اللہ، مساوات کا قیام، تقدس اور ذکر الہی کا مرکز ، دینی تربیت کا مرکز بنی نوع انسان کے حقوق کی حفاظت، امن کا ذریعہ، شر اور بدی سے بچانے کے لئے ، امامت کے قیام جیسے تمام امور میں مساجد اور صحابہ کے درمیان قدرمشترک پائی جاتی ہے۔دوسرا مضمون قلعوں سے متعلق تھا جس میں قلعے بنانے کے اغراض و مقاصد بیان کر کے اُن کی گیارہ خصوصیات فرمائی ہیں۔پھر ان دُنیاوی قلعوں کا روحانی قلعوں سے موازنہ کرتے ہوئے روحانی قلعوں کی برتری ثابت فرمائی۔آپ نے اپنی اس تقریر میں عقلی و نقلی دلائل سے قرآن کریم کو سب سے عظیم اور محفوظ ترین روحانی قلعہ ثابت فرمایا ہے۔،۔(۴) احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم وتمدن کا صحیح نمونہ پیش کرنے کے لئے قائم کی گئی یہ خطاب سید نا حضرت طلیقہ اسیح الثانی نے ار فروری ۱۹۴۱ء کو بیت الاقصی قادیان میں مجلس خدام الاحمدیہ کے تیسرے سالانہ اجتماع کے موقع پر ارشاد فرمایا پہلی دفعہ مورخه ۲، ۴، ۶ اکتوبر ۱۹۶۰ء کوروز نامہ الفضل ربوہ میں شائع ہوا اور اب پہلی دفعہ کتابی صورت میں شائع ہو رہا ہے۔یہ خطاب تربیتی نوعیت کا ہے جو کئی قسم کی زریں ہدایات پر مشتمل ہے اور تمام خدام کے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اس خطاب میں جن امور پر روشنی ڈالی گئی ہے وہ حسب ذیل ہیں۔ا۔مرکز میں بار بار آنے کی ضرورت واہمیت۔۲۔حضرت مسیح موعود کی بعثت اور جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض وغایت۔