انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page vii

۵ انوار العلوم جلد ۱۶ تعارف کتب آپس میں بحث و تمحیص کا نہیں بلکہ کام کا ہے۔آپ نے اپنی اس تقریر میں اس فتنہ سے بچاؤ نیز عراق میں امن قائم کرنے سے متعلق بہت عمدہ تجاویز بیان فرمائیں اور اُمتِ مسلمہ کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ:- ان حالات میں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس فتنہ کو اس کی ابتداء میں ہی دبا دینے کی کوشش کرے۔ابھی وقت ہے کہ جنگ کو پرے دھکیل دیا جائے۔۔۔۔۔اس وقت تو مسلمانوں کو اپنی ساری طاقت اس بات کے لئے خرچ کر دینی چاہئے کہ عراق میں پھر امن ہو جائے۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ مسلمان جان اور مال سے انگریزوں کی مدد کریں اور اس فتنہ کے پھیلنے اور بڑھنے سے پہلے ہی اس کے دبانے میں اُن کا ہاتھ بٹائیں تا کہ جنگ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے دُور رہے۔اور ٹرکی، ایران، عراق اور شام اور فلسطین اس خطرناک آگ کی لپٹوں سے محفوظ رہیں۔یہ وقت بحثوں کا نہیں کام کا ہے۔اس وقت ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے ہمسایوں کو اِس خطرہ سے آگاہ کرے جو عالم اسلام کو پیش آنے والا ہے تا کہ ہر مسلمان اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔“ (1) اللہ تعالی، خاتم النبین اور امام وقت نے مسیح موعود کو رسول کہا ہے مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مصلح موعود کے ایک خطبہ جمعہ مطبوعہ’الفضل‘۱۸ جون ۱۹۴۱ء بابت دعوی نبوت حضرت مسیح موعود کے جواب میں ایک مضمون شائع کیا۔جس میں مولوی صاحب نے اپنے خیالات و نظریات کے تحت حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات اور عبادات سے غلط مفہوم اخذ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے مقام نبوت پر فائز ہونے کی تردید کی۔نیز حضرت مصلح موعود کی ذات پر کیچڑ اُچھالا۔حضرت مصلح موعود نے مولوی محمد علی صاحب کے اس مضمون کی تردید میں یہ مضمون تحریر فرمایا جو ۱۴ /اگست ۱۹۴۱ ء کے الفضل میں شائع ہوا۔حضور نے اس مضمون میں مولوی صاحب کے حضرت مسیح موعود کی نبوت سے متعلق غلط نظریات کی عقلی و نقلی دلائل سے تردید فرمائی ہے اور حضرت مسیح موعود کے دعوی نبوت کو روزِ روشن کی طرح ثابت کیا ہے۔نیز اپنی ذات پر کئے گئے اعتراضات والزامات کا جواب دیا ہے۔حضرت مسیح موعود کی نبوت